جب انسان ایک راستبازاور صادق کے پاس بیٹھتا ہے تو صدق اس میں کام کرتا ہے لیکن جو استبازوں کی صبحت کو چھوڑ کر بدوں اور شریروں کی صبحت کو اختیار کرتا ہے تو ان میں بدی اثر کرتی جاتی ہے اسی لیے احادیث اور قرآن شریف میں صبحت ِبد سے پر ہیز کر نے کی تا کید اوت تہد ید پائی جاتی ہے اور لکھا ہے کہ جہاں اللہ اور اس کے رسول ﷺ کی اہانت ہو تی ہو اس مجلس سے فی الفور اٹھ جاؤورنہ نہ جو اہانت سنکر نہیں اٹھتا اس کا شمار بھی ان میں ہی ہو گا۔
صادقوں اور استبازوں کے پاس رہنے والا بھی ان میں ہی شریک ہوتا ہے اس لیے کس قدر ضرورت ہے اس امر کی کہ انسان
کو نو امع الصادقین
پاپ ارشاد پر عمل کرے حدیث شریف میں آیاہے کہ اللہ تعالیٰ ملائکہ کو دنیا میں بھیجتا ہے وہ پاک لوگوں کی مجلس میں آتے ہیں اور جب واپس جاتے ہیں تواللہ تعالیٰ ان سے پوچھتا ہے کہ تم نے کیا دیکھا وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایک مجلس دیکھی ہے جس میں تیرا ذکرکررہے تھے مگر ایک شخص ان میں سے نہیں تھا تو اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے کہ نہیں وہ بھی میں ہی سے ہے کیو نکہ
انھم قوم لا یشقی جلیسھم۔
اس سے صاف معلوم ہو تا ہے کہ صادقوں کی صبحت سے کس قدر فائدہ ہیں سخت بدنصیب ہے وہ شخص جو صبحت سے دور رہے۔
مقام ِنفس مطمئنّہ
غرض نفس مطمئنّہ کی تاثیروں میں سے یہ بھی ہے کہ وہ طمینان یافتہ لوگوں کی صبحت میں اطمینان پاتے ہیں امارہ والے میں نفس امارہ کی تا ثیریں ہو تی ہیں اور لوامہ میں لوامہ کی تاثیریں ہو تی ہیں اور جوشخص نفس مطمنہ والے کی صبحت میںبیٹھتا ہے۔اس پر بھی اطمینان اور سکینت کے آثار ظاہر ہو نے لگتے ہیں اور اندر ہی اندر اسے تسلی ملنے لگتی ہے ۔ مطمئنّہ والے کو پہلی نعمت یہ دی جاتی ہے کہ وہ خدا تعالیٰ سے آرام پاتا ہے جیسے فرمایا
یا ایھاالنفس المطمئنۃ ار جعی الی ربک راضیۃمرضیۃ(الفجر:۲۸،۲۹)
یعنی اے خدا تعالیٰ میں آرام یافتہ نفس اپنے رب کی طرف آجا وہ تجھ راضی اورتو اس سے راضی ۔اس میں ایک باریک نکتہ معرفت ہے جو یہ کہا کہ خدا تجھ سے راضی تو خدا سے راضی ۔بات یہ ہے کہ جب تک انسان اس مرحلہ پرنہیں پہنچتا اور لوّامہ کی حالت میں ہو تا ہے اس وقت تک خدا تعالیٰ سے ایک قسم کی لڑائی رہتی ہے یعنی کبھی کبھی وہ نفس کی تحریک سے نا فر مانی بھی کر بیٹھتا ہے لیکن جب مطمئنّہ کی حالت پر پہنچتا ہے تو اس جنگ کا خاتمہ ہو جا تا ہے اور اللہ تعالیٰ سے صلح ہو ج تی ہے اس وقت وہ خدا سے راضی ہو تا ہے اور خدا اس سے راضی ہو جاتا ہے کیونکہ وہ لڑائی بھڑائی بالکل جاتی رہتی ہے۔
یہ بات خوب یاد رکھنی چاہیئے کہ ہر شخص خدا تعالیٰ سے لڑائی رکھتا ہے اور بعض اوقات ایسا ہو تا ہے کہ وہ خدا تعالیٰ کے حضور دُعایئں کرتا ہے اور بہت ساری امانی اور امیدیں رکھتا ہے لیکن اس کی وہ دُعایئں نہیں سنی