کو اتارا ہے اور ہم ہی اس کی حفاظت کر نے والے ہیں پھر دیکھ لو کہ اس کیسی حفاظت فر مائی ایک لفظ اور نقطہ تک پس وپیش نہ ہوا اور کو ئی ایسا نہ کر سکا کہ اس میں تحریف تبدیل کر تا صاف ظاہر ہے کہ جو کام خدا کے ہا تھ سے ہو تا ہے وہ بڑا ہی برکت ہو تا ہے اور جو انسان کے اپنے ہاتھ سے ہو وہ با برکت بنہیں ہو سکتا اس سے صاف پا یا جا تا ہے کہ جب تک خدا تعالیٰ کا فضل اور اسی کے ہاتھ سے نہ ہو تو کچھ نہیں ہو تا پس محض اپنی سعی اور کو شش طہارت ِنفس پیدا جاوے یہ خیال باطل ہے لیکن اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ پھر انسان کو شش نہ کرے اور مجاہدہ کرے نہیں بلکہ کو شش اورمجاہدہ ضروری ہے اور سعی کر نا فرض ہے خدا تعالیٰ کا فضل سچی محنت اور کوشش کو ضائع نہیں کرتا اس واسطے ان تمام ترابیر اور مساعی کو چھوڑنا نہیں چاہئیے جو اصلاح نفس کے لیے ضروری ہیں مگر یہ تجاویزاور ترابیر اپنے نفس اور خیال سے پیدا کی ہو ئی نہیں ہو نہ چاہئیں بلکہ ان تدابیر کو اختیار کر نا چاہئیے جن کو خدا اللہ تعالیٰ نے بیان کیا ہے اور جو ہمارے نبی ﷺ نے کر کے دیکھائی ہیں آپ کے قدم پر قدم مارواور پھر دعاؤں سے کام لو۔ تم نا پاکی کے کیچڑ میں پھنسے ہوئے ہو مگر خدا تعالیٰ کے فضل کے بغیر صرف تدبیروں سے صاف چشمہ تک نہیں پہنچ سکتے جو طہارت کا موجب بنے۔
بہت سے لوگ ایسے ہیں جو خدا تعالیٰ کو چھوڑتے ہیں اور اپنی تدبیروں پر بھروسہ کرتے ہیں وہ احتیاطیں کرتے کرتے خود مبتلا ہو جاتے ہیں اور پھنس جاتے ہیں۔اس واسطے کہ خدا تعالیٰ کا فضل ان کے ساتھ نہیں ہوتا اور ان کی دستگیری نہیں کی جاتی۔خدا تعالیٰ کو چھوڑ کراپنی تجویز اور خیال سے اگر کوئی اصلاحِ نفس کرنے کا مدعی یو وہ چھوٹا ہے ۔
اصلاح نفس کی ایک راہ اللہ تعالیٰ نے یہ بتائی ہے۔
کو نو امع الصادقین(التوبۃ:۱۱۹)
یعنی جو لوگ قالی ۔فعلی اور حالی رنگ میں سچائی پر قائم ہیں ان کے ساتھ رہو اس سے پہلے فر ما
یاایھاالذین امنو اتقوااللہ (التوبۃ:۱۱۹)
یعنی ایمان والو۔رقویٰ اللہ اختیار کرو اس سے یہ مراد ہے کہ پہلے ایمان ہو پھر سنت کے طور پر بدی کی جگہ کو چھوعٹدے اور صادقوں کی صبحت میں رہے صبحت کا بہت بڑا اثر ہو تا ہے جو اندر ہی اندر ہو تا چلا جاتا ہے اگر کو ئی شخص ہر روز کنجر یوں کے ہاں جاتا ہے اور پھر کہتا ہے کہ کیا مَیں زناکرتا ہو؟ اس سے کہنا چاہئیے کہ ہاں تو کرے گا اور وہ بایک نہ ایک دن اس میں مبتلا ہو جاوے ھا کیو نکہ صبحت میں تا ثیر ہو تی ہے اسی طرح پر جو شخص شراب خانہ میں جاتا ہے خواہ وہ کہتا ہی پرہیز کرے اور کہے کہ میں نہیں پیتا ہوں لیکن ایک دنآئے گا کہ وہ ضرور پئے گا۔
پس اس سے کبھی بے خبر نہیں رہنا چاہئیے کہ صبحت میں بہت بڑی تاثیر ہے یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اصلاحِ نفس کے لیے
کو نو امع الصادقین
کا حکم دیا ہے جو شخص نیک صبحت میں جاتا ہے خواہ وہ