تقویٰ کو سمجو ۔تقویٰ کیا ہے نفسِامّارہ کے برتن کو صاف کرنا ۔ ۲؎
نفس کی تین حالتیں
نفس کو تین قسم پر منقسم کیا ہے نفسِ امّارہ ۔نفس ِلّوامہ اور نفسِ مطمئنہّ ۔ایک نفس ِزکیہ بھی ہو تا ہے مگر وہ بچپن کی حالیت ہے۔ جب گناہ ہو تا ہی نہیں اس لیے اس نفس کو چھوڑ کربلوغ کے بعد تین نفسوں ہی کی بحث کی ہے ۔نفسِ امّارہ کی وہ حالت ہے جب انسان شیطان اور نفس کا بندہ ہو تا ہے اور نفسانی خواہشوں کا غلام اور اسیرہو جاتا ہے جو حکم نفس کرتا ہے اس کی تعمیل کے واسطے اس طرح تیار ہو جاتا ہے جیسے ایک غلام دست بستہ اپنے مالک کے حکم کی تعمیل کے لیے مستعد ہو تا ہے اس وقت یہ نفس کا غلام ہو کر جووہ کہے یہ کرتا ہے وہ کہے خون کر ۔توبہ کرتا ہے زناکہے چوری کہے ٖغرض جو کچھ بھی لہے سب کیلئے تیار ہوتا ہے کو ئی بدی کو ئی برا کام ہو تو نفس کہے یہ غلاموں کی طرح کر دیتا ہے یہ نفس امارہ کی حالت ہے اور یہ وہ شخص ہے جو نفس امّارہ کا تابع ہے ۔
اس کے بعد نفس لوامہ ہے یہ ایسی حالت ہے کہ گناہ تو اس سے بھی سرزد ہو تے رہتے ہیں مگر وہ نفس کو علامت بھی کرتا رہتا ہے اور اس تدبیر اور کوشش میں لگا رہتا ہے کہ اسے گناہ سے نجات مل جائے جو لوگ نفس لوامہ کے ماتحت یا اس حالت میں ہوتے ہیں وہ ایک جنگ کی حالت میں ہو تے ہیں یعنی شیطان اور نفس سے جنگ کرتے رہتے ہیں کبھی ایسا ہوتا ہے کہ نفس غالب آکر لغزش ہو جاتی ہے اور کبھی خود نفس پر غالب آجاتے اور اس کو دبالیتے ہیں۔یہ لوگ نفسِ امّارہ والوں سے ترقی کرجاتے ہیں۔نفسِ امأارہ والے انسان اور دوسرے بہائم میں کوئی فرق نہیں ہوتا جیسے کُتّا،بلی جب کوئی برتن ننگا دیکھتے ہیں تو فوراً جا پڑتے ہیں اور نہیں دیکھتے کہ وہ چیز ان کا حق ہے یا نہیں۔اسی طرح پر نفسِ امّارہ کے غلام انسان کو جب کسی بدی کا موقعہ ملتا ہے تو فوراً اسے کر بیٹھتا ہے اور تیار رہتا ہے اگر راستہ میں دوچار روپے پڑے ہوں تو فی الفور اُن کے اُٹھانے کو تیار ہوجائے گا اور نہیں سوچے گا کہ اس کو اُن کے لیے لینے کا حق ہے یا نہیں مگر لوّامہ والے کی یہ حالت نہیں۔وہ حالت جنگ میں جس میں کھبی نفس غا لب کھبی وہ،ابھی کامل فتح نہیں ہوئی۔مگر تیسری حالت جو نفسِ مطمئنّہ کی حالت ہے یہ وہ حالت ہے جب ساری لڑائیوں کا خاتمہ ہو جاتا ہے اور کامل فتح ہو جاتی ہے اسی لیے اس کانام نفسِ مطمئنّہ رکھا ہے یعنی اطمینان یافتہ ۱؎ اس وقت وہ اللہ تعالیٰ کے وجود پر سچا ایمان لاتا ہے اور وہ یقین