یہ پوست اور قشرہے اللہ تعالیٰ اس کو پسند نہیں کرتا اور کبھی راضی نہیں ہوتا جب تک وفاداری اور صدق نہ ہو بے وفاآدمی کُتے کی طرح ہے جو مردار دنیا پر گرے ہوئے ہو تے ہیں وہ بظاہر نیک بھی نظر آتے ہیں ،لیکن افعال ذمیمہ ان میں پائے جاتے ہیں اور پوشیدہ بد چلنیاں ان میں پائی جاتی ہیں جونمازیں ریا کاری سے بھری ہوئی ہوں ان نمازوں کو ہم کیا کریں اور ان سے کیا فائد ہ ؟ ۲ ؎
حقیقی نماز
نماز اس وقت حقیقی نماز کہلاتی ہے جبکہ اللہ تعالیٰ سے سچا اور پاک تعلقو ہو اور اللہ تعالیٰ کی رضا اور اطاعت میں اس حد تک فنا ہو اور یہاں تک دین کو دنیا پر مقدم کرلے کہ خدا تعالیٰ کی راہ میں جان تک دے دینے اور مر نے کے لئے تیار ہو جائے جب یہ حالت انسان میں پیدا ہو جائے اس وقت کہا جائے گا کہ اس کی نماز نماز ہے مگر جب تک یہ حقیقت انسان کے اندر پیدا نہیں ہو تی اور سچے اخلاص اور وفاداری کا نمانہ نہیں دکھلاتا اس وقت تک اس کی نماز یں اور دوسرے اعمال بے اثر ہیں ۔
بہت سی مخلوق ایسی ہے کہ لوگ ان کو مومن اور راست باز سمجھتے ہیں مگر آسمان پر ان کا نام کافر ہے۔ ۱ ؎
اس واسطے حقیقی مومن اور راستباز وہی ہے جس کا نام آسمان پر مومن ہے ۔دنیا کی نظرمیں خواہ وہ کافر ہی کیوں نہ کہلاتا ہو ۔حقیقت میں یہ بہت ہی مشکل گھاٹی ہے کہ انسان سچا ایمان لاوے اور خدا تعالیٰ کے ساتھ کا مل اخلاص ا وروفاداری کا نمونہ دکھلاوے جب انسان سچا ایمان لاتا ہے تو اس کے بہت سے نشانات ہو جاتے ہیں ۔قرآن شریف نے سچے مومنوں کی جو علامات بیان کی ہیں وہ ان میں پائی جاتی ہیں ۔ان علامات میں سے ایک بڑی علامت جو حقیقی ایمان کی ہے وہ یہی ہے کہ جب انسان دُنیاکو پائوں کے نیچے کچل کر اس سے اس طرح الگ ہو جا تا ہے جیسے سانپ اپنی کینچلی سے باہر