نہیں رہتا ایمانی قوت کمزور ہو تی ہے اور شیطانی تسلط اور غلبہ بڑھ جاتا ہے ایمانی ذوق اور حلاوت نہیں رہتی یسے وقتوں میں عادت اللہ اس طرح پر جاری ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنے ایک کامل بندہ کو جو خدا تعالیٰ کی سچی اطاعت میں فناشدہ اور محوہو تا ہے اپنے مکالمہ کا شرف بخش کر بھیجتا ہے اور اب وقت اس نے مجھے مامور کرکے بھیجا ہے کیو نکہ یہی وہ زمانہ ہے جس میں الہیٰ محبت بالکل ٹھنڈی ہو گئی ہے ۱؎
اگر چہ عام نظر میں یہ دیکھا جاتا ہے لوگ
لا لہ الا اللہ
کے بھی قائل ہیں پیغمبر ﷺ کی بھی زبان سے تصدیق کرتے ہیں بظاہر نمازیں بھی پڑھتے ہیں روزے بھی رکھتے ہیں مگر اصل بات یہ ہے کہ روحانیت بالکل نہیں رہی اور دوسری طرف ان اعمال صالحہ کے مخاجف کا م کر نا ہی شہادت دیتا ہے کہ وہ اعمال اعمال ِصالحہ کے رنگ میں نہیں کئے جاتے بلکہ رسم اور عادت کے طور پر کئے جاتے ہیں کیو نکہ ان میں اخلاص اور رو۳حانیت کا شمہ بھی نہیں ہے رونہ کیا وجہ ہے کہ ان اعمال ِصالحہ کے برکا ت اور انوار ساتھ نہیں ہیں خوب یادرکھو کہ جب تک سچے دل سے اور روحانیت کے ساتھ یہ اعمال نہ ہوں کچھ فائدہ نہ ہو گا اور یہ اعمال کا م نہ آئیں گے اعمال صالحہ اسی وقت اعمال صالحہ کہلاتے ہیں جب ن میں کسی قسم کا فساد نہ ہو صلاح کہ ضد فساد ہے صالح وہ ہے جو فساد سے مبرا منزہ ہو جن کی نمازوں میں فساد ہے اور نفسانی اغراض چھپے ہو ئے ہیں ان کی نمازیں اللہ تعالیٰ کے واسطے ہر گز نہیں ہیں اور وہ زمین سے ایک بالشت بھی پروا نہیں جاتی ہیں کیو نکہ ان میں اخلاص کی روح نہیں اور وہ روحانیت سے خالی ہیں ۔
بہت سے اسے لوگ ہیں جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ اس سلسلہ کی ضرورت کیا ہے کیا ہم نمازروزہ نہیں کرتے ہیں وہ اس طرح پر دھوکا دیتے ہیں اور کچھ تعجب نہیں کہ بعض لوگ جو ناواقف ہو تے ہیں ایسی باتوں کو سنکر دھوکا کھا جاویں اور ان کے ساتھ مل کر یہ کہد یں کہ جس حالت میں ہم نماز پڑھتے ہیں ، روزہ رکھتے ہیں اور وِردوظائف کرتے ہیں پھر کیوں یہ پھوٹ ڈالدی ۔یاد رکھو کہ ایسی باتیں کم سمجھی اور معرفت کے نہ ہو نے کا نیتجہ ہے میرا اپنا کام نہیں ہے ہو تے یہاں تک نوبت پنچ گئی ہے کہ ایمانی وقت بالکل ہی معدوم ہی ہو گئی ہے اور اللہ تعالیٰ چاہتا ہے کہ حقیقی ایمان کی روح پھونکے جو اس سلسلہ کے ذریعہ سے اس نے چاہا ہے ایسی صورت ان لوگوں کا اعتراض بیجااور بیہودہ ہے پس یادرکھو کہ ایسا وسوسہ ہر گز کسی کے دل میں نہیں آنا چاہئیے اور اگر پورے غور اور فکر سے کام لیا جاوے تو یہ وسوسہ آہی نہیں سکتا غور سے کام نہ لینے کے سبب ہی سے وسوسہ آتا ہے جو ظاہری حالت پر نظر