کو کچل کر موت کو قبول کیا ۔انہوں نے بڑا تعجب انگیز نمونہ دکھلا یا ہے اور اس قسم کے ایمان کو حاصل کر نے کی کو شش ہر ایک کو کرنی چاہئیے جماعت کو چاہئیے کہ اس کتاب (تذکرۃ الشہادتیں) کو بار بار بڑھیں اور فکر کریں اور دعا کریں کہ ایسا ہی ایمان حاصل ہو ۔
مو منوں کے دوگروہ ہو تے ہیں ایک تو جان کو فدا کر نے والے اور دوسرے جو ابھی منتظر ہیں اور ہم جانتے ہیں کہ ہماری جماعت کے بہت سے لوگوں میں سے وہ چودہ۱۴ اچھے ہیں جو کہ قید میں ہیں۔ ۱ ؎ ابھی بہت ساحصہ ایسا ہے جو کہ صرف دنیا کو چاہتا ہے حالا نکہ جانتے ہیں کہ مَر جانا ہے اور موت کا کوئی وقت مقرر نہیں ہے مگر بھی بھی دنیا کا خیال بہت ہے اس سر زمیں (پنجاب ) میں بزدلی بہت ہے بہت کم ایسے آدمی ہیں کہ دین کو دنیا پر مقدم رکھتے ہیں اکثر خیال بیوی بچوں کا رہتا ہے دو دوآنہ پر جھوٹی گو اہی دیتے ہیں مگر اس کے مقابلہ پر سر زمین کا بل میں وفا کا مادہ زیادہ معلوم ہو تا ہے اسی لیے وہ لوگ قرب الہیٰ کے زیادہ مستحق ہیں(بشتر طیکہ) ما مورمن اللہ کی آواز کو گوش ِدل سے سنیں خدا تعالیٰ نے قرآن شریف میں اسی لیے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تعریف کی ہے جیسا کہ فر ما یا ہے ۔
ابراہیم الذی وفی (النجم :۳۸)
کہ اس نے جو عہد کیا اسے پورا کر کے دیکھا یا لو گوں کا دستور ہے کہ حالت تنعّم میں وہ خدا تعالیٰ سے بر گشتہ رہتے ہیں اور جب مصیبت اور تکلیف پڑتی ہے تو لمبی چوڑی دعائیں مانگتے ہیں اور ذرا سے ابتلا ء سے خدا تعالیٰ سے قطع تعلق کر لیتے ہیں خدا تعالیٰ کو اس شرط پر ماننے کے لیے تیار ہیں کہ وہ ان کی مرضی کے برخلاف کچھ نہ کرے حالانکہ دوستی کا اصول یہ ہے کہ کبھی اپنی اس سے منوائے اور کبھی اس کی آپ مانے اور یہی طریق خدا تعالیٰ نے بھی بتلایا ہے کہ
ادعونی استجب لکم(المومن:۶۱)
کہ تم ما نگو تو مَیں تمہیں دوں گا یعنی تمہاری بات مانوں گا اور دوسری جگہ اپنی منوا تا ہے اور فر ماتا ہے
ولنبلو نکم بشی من الخوف (البقرۃ:۱۵۶)
مگر یہاں آج کل لوگ خداتعالیٰ کو مثل غلام کے اپنی مرضی کے تابع کر نا چاہتے ہیں ۔حالانکہ غوث ،قطب ،ابدال اور اولیاء وغیرہ جس قدر لوگ ہو ئے ہیں ان کو یہ سب مراتب اسی لیے ملے کہ خدا تعالیٰ کی مرضی کو اپنی مرضی پر مقدم رکھتے چلے آئے چو نکہ افغانستان کے لوگوں میں یہ مادہ وفا کا زیادہ پایا جاتا ہے اس لیے کیا تعجب ہے کہ وہ لوگ ان لوگوں (اہل پنجاب) سے آگے بڑھ جاویں اور گوئے سبقت لے جاویں اور یہ پیچھے رہ جاویں کیو نکہ وہ لوگ اپپمے عہد کے اس قدر پا بند ہیں کہ جان تک کی پروا نہیں کرتے نہ مال کی نہ بیوی کی نہ بچے کی جس کا نمونہ ابھی مولوی اللطیف صاحب نے دکھادیا ہے ۔
(البدؔر جلد ۳ نمبر ۲ صفحہ ۵مورخہ ۸ ؍جنوری ۱۹۰۴ئ)