پر اپنا ارادہ ظاہر فرماتا ہے اور یہی بھاری شئے ہے جو انبیاء لاتے ہیں اور جس کا نام پیشگائی ہے۔ایک کاغذ لا کبوتر بنا کر دکھلاوے تو اس کی نظیر دوسرے بھی کرکے دکھادیتے ہیں اور اُسے اعجاز میں شمار نہیں کیا جاتا ۔مگر پیشگوئی کا میدان وسیع ہے۔اس کی نظیر پیدا کرنا انسان کاکام نہیں۔ہزار ہزار برس پیشتر اللہ تعالیٰ اپنے خاص بندوں کو اپنے ارادہ سے اطلاع دیتا ہے اور پھر وہ بات اپنے وقت پر پوری ہوکر رہتی ہے۔مثلاً براہین کی ہی پیشگوئی کو دیکھو کہ جسقدر مخالفت ہورہی ہے۔مقدمات ہوئے۔ گورمنٹ تک نوبت پہنچی۔یہ سب اوّل سے اس میں درج ہیں اور پھر کامیابی،فتح اور نصرت کی بھی خبر اوّل سے ہی دیدی۔کوئی سوچ کر بتلادے کہ اس میں کیا فریب اور شعبدہ ہے۔۲۳۔۲۴سال پیشتر کی چھپی ہوئی یہ کتاب ہے۔کوئی بتلا سکتا ہے کہ ہمارے پاس اس وقت کون کون ہوتا تھا۔اگر اہل الرائے کے نزدیک یہ ایک انسانی فعل ہے اور خدا تعالیٰ کا نہیں ہے تو وہ اس کی نظیر پیش کریں لیکن وہ ایسا کرسکتے۔جبکہ یہ حال ہے تو پھر اُسے کیوں خدا تعالیٰ کا کلام نہ کیا جاوے۔ جس قدر لوگ ہماری صُحبت میں رہنے والے ہیں ان میں کوئی اُٹھ کر بتلادے کہ کیا ایسا فروبشر بھی ہے کہ اس نے کوئی نشان نہ دیکھا ہو۔ہمارے پر سلطنت ایسے لوگوں کی ہے جو سچے اور کامل خدا سے بالکل بے خبر ہیںدنیاوی امور میں اس قدر مصروفیت ہے کہ دین سے بالکل غافل رہے اور وہی فلسفہ کا زور۔اس لیے دہریت اُن میں آگئی۔اب ہمارا بڑا کام یہ ہے کہ نئے سرے سے بنیاد ڈالیں اور ان کو دکھا دیویں کہ خُدا ہے۔ ہر ایک ہمارے پاس کسی نہ کسی ضرورت کے لیے آتا ہے مگر اصل میں بڑی ضرورت خداشناسی کی ہے۔اسی کے نہ ہون سے گناہ ہوتا ہے۔کُتا ایک ذلیل سے لیل جانور ہے مگر اس سے خوف زدہ ہو کر وہ راہ چھوت دیتا ہے اسی طرح جس راہ میں اسے علم ہو کہ سانپ یا بھیڑ یا ہے تو اسے چھوڑ دیتا ہے۔جب وہ ادنیٰ تریں جانوروں سے ڈرتا ہے تو کیا خدا کے وجود کا اسے اتنا بھی خوف نہیں کہ اس سے ڈر کر گناہ سے باز رہے۔زہر اس کے سامنے ہوتو اسے نہیں کھائے گا لیکن گناہ کو دیدہ دانستہ کرلیگا۔اصل بات یہ ہے کہ خدا تعالیٰ کے وجود پر یقین نہیں ہے۔ حالانکہ مشاہدہ کرتا ہے کہ اس نے ایک جہنم یہاں بھی تیار کررکھا ہے کہ جب کوئی بد کاری کرتا ہے تو اس کی سزا بھی ساتھ ہی پاتا ہے۔جس کسی کی جہنمی زندگی ہے وہ خوب محسوس کر لیگا۔سشی بات یہ ہے کہ جوئم پیشہ کو وہ کبھی نہیں چھوڑتا جو شخص دلیری اور چالاکی سے گناہ کرتا ہے اس کا انجام بد ہوتا ہے۔یہ تو جسمانی طور پر گناہ کہ سزا ہے لیکن روحانی طور پر بھی جو شخص خدا تعالیٰ کو نہیں پہچا نتا وہ جہنم ہی ہے۔بھلا یہ بھی کوئی زندگی ہے کہ حیوانوں کی طرح کھاپی لیا اور عورتوں کے پاس ہوآیا۔اگر اسی کا نام زندگی ہے تو بتلائو کہ حیوانوں میں اور اس میں کیا فرق ہے اور حیوانوں سے زائد قویٰ عقل وفکر وغیرہ کے خدا تعالیٰ نے اُسے کیوں دیئے۔جو لوگ ان قویٰ سے کام نہیں لیتے ان کو خدا تعالیٰ