صاحبزادہ زریں لباس سے ملبس حضور کی خدمت میں نیاز مندانہ طریق پر حاضر ہوئے۔آپ نے اُنکو اپنے پاس جگہ دی ۔ان کو اس ہیئت میں دیکھ کر خدا تعالیٰ کے برگزیدہ نے بڑی سادگی سے جناب نواب صاحب سے دریافت کیا کہ ان کی کیا رسم ادا ہوئی ہئ؟نواب صاحب نے جواب دیا کہ آمین ہے۔اس اثناء میں ایک سروپا کا تھال آیا اور وہ حضور علیہ السلام کے روبرو دھرا ھیا۔چند لمحہ کے بعد پھر آپ نے دریافت فرمایااب آگے کیا ہونا ہے۔عرض کی گئی کہ اسے دستِ مبارک لگادیا جاوے اور دعا فرمائی جاوے۔چنانچہ حضور نے ایسا ہی کیا اور پھر فوراً تشریف لے گئے۔ (البدؔر جلد ۳ نمبر ۲ صفحہ ۲مورخہ ۸ ؍جنوری ۱۹۰۴ئ)
۲۳؍دسمبر۱۹۰۳ئ
اسوئہ عبد اللطیف کا اتباع
فرمایا کہ:۔عبد اللطیف صاحب ایک اسوئہ چھوڑ ھئے ہیں جس کی اتّباع جماعت کو چاہیئے۔
صحبت کی اہمیت
ایک انگریز کا ذکر تھا جو کہ اپنی عقیدت حضرت اقدس کے ساتھ ظاہر کرتا تھا اور کہتا تھاکہ میرا ارادہ ہے کہ میں کشمیر میں ایک بڑا ہوٹل بنائوں اور وہاں ہر ملک و دیار کے لوگ جو سیر وسیاحت کے لیے آتے ہیں ان کو تبلیغ کروں۔
حضرت اقدس نے فرمایاکہ :۔
ہمیں اس سے دنیاداری کی بو آتی ہے۔اگر اسے سچا اخلاص خدا تعالیٰ کے ساتھ ہے اور اس کی غرض تحصیلِ دین کی ہے تو اول یہا ں آکر رہے۔
سنت اللہ کے آگے عقل کی بھی کچھ پیش نہیں چلتی۔عقل تو یہی چاہتی تھی۔کہ فی الفور ان باتوں کو مان لیا جاوے جو ہم نے پیش کی ہیں مگر سنت اللہ نہ چاہتی تھی۔کسی فرقہ میں شامل ہونے کے لیے سچا جوش اسی وقت پیدا ہوتا ہے جبکہ اوآل کامل وجوہات دل میں جانشین ہوں۔اس کے بعد پھر وہ شخص ہر ایک بات کو قبول کرلیتا ہے۔صحابہ اکرامؓ آنحضرتﷺ کی صحبت میں رہے اور بڑے بڑے نقصان برداشت کئے۔اُن کو اس بات کا علم تھا کہ صحبت سے جو بات حاصل ہوتی ہے وہ اَور طرح ہر گز حاصل نہ ہو گی۔حسُن ِظن بھی اگرچہ عمدہ شئے ہے ۔مگر افراط تک اسے پہنچانا غلطی ہے ہمارے حصہ کا جو یور پین ہو گا ہم خود اسے پہچان لیں گے کہ یہ ہے ۔