۲۵؍دسمبر۲۹۰۳ئ؁ اِکرام ِضیف شام کے وقت بہت سے احباب بیرونجات سے آئے ہوئے تھے آپ نے میاں نجم الدیں صاحب مہتمم لنگر خانہ کو بلوا کر تاکید اً فر مایا کہ ۔ دیکھو بہت سے مہمان آئے ہو ئے ہیں ان میں سے بعض کو تم شناخت کرتے ہو اور بعض کو نہیں اس لیے مناسب یہ ہے کہ سب کو واجب الا اکرام جان کر تواضع کرو۔سردی کا موسم ہے چائے پلاؤاور تکلیف کسی کو نہ ہو ۔تم پر میرا حُسن ِظن ہے کہ مہمانوں کو آرام دیتے ہو ان سب کی خوب خدمت کرو اگر کسی کو گھر یا مکان میں سردی ہو تو لکڑی یا کوئلہ کا انتظام کردو۔ دینی علوم کی تحصیل کیلئے تقویٰ اور طہارت کی ضرورت ہیَ جب تک خدا تعالیٰ کی طرف سے روشنی نہ ہو تب تک انسان کو یقین نہیں ملتا ۔اس کی باتوں میںتناقض ہو گا دینی اور دنیاوی علوم میں یہ فرق ہے کہ دنیاوی علوم کی تحصیل اور انکی باریکیوں پر واقف ہو نے کے لیے تقویٰ طہارت کی ضرورت نہیں ہے ایک پلید سے پلید انسان خواہ کیسا ہی فاسق جاجر ہو ،ظالم ہو، وہ ان کو حاصل کرسکتا ہے چوڑھے چماربھی ڈگریاں پا لیتے ہیں ،لیکن دینی علوم اس قسم کے نہیں ہیں کہ ہر ایک ان کو حاصل کر سکے ان کی تحصیل کے لیے تقویٰ اور طہارت کی ضرورت ہے جیسا کہ خدا تعالیٰ فر ماتا ہے ۔ لا یمسہ الا المطھرون (الواقعہ:۸۰) پس جس شخص کو دینی علوم حاصل کر نے کی خواہش ہے اسے لازم ہے کہ تقویٰ میں ترقی کرے جس قدر وہ ترقی کرے گا اسی قدر لطیف وقائق اور حقائق اس پر گھلیں گے۔ تقویٰ کا مرحلہ بڑا مشکل ہے اسے وہی طے کرسکتا ہے جو با لکل خدا تعالیٰ کی مرضی پر چلے جو وہ چاہے وہ کرے اپنی مرضی نہ کرے بناوٹ سے کوئی حاصل کر نا چاہے تو ہر گر نہ ہو گا اس لیے خدا کے فضل کی ضرورت ہے اور وہ اسی طرح سے ہو سکتا ہے کہ ایک طرف تو دعا کرے اور ایک طرف کوشش کرتا رہے خدا تعالیٰ نے دعا اور کوشش دونوں کی تا کید فر مائی ہے۔ اعونی استجب لکم میں تودعا کی تا کید فر مائی ہے اور والذین جا ھدوانینا لنھدینھم سبلنا(العنکبوت:۷۰) میں کوشش کی جب تک تقویٰ نہ ہو گا اولیا ء وقت پردہ اٹھاتی ہے جب اندرونی غبار دور ہو جاتا ہے مگر افسوس ہے کہ جس قدر محنت اور دعا دنیوی امور کے لیے ہو تی ہے خدا تعالیٰ کے لیے اس قدر بالکل نہیں ہوتی اگر ہو تی ہے تو عام رسمی رواجی الفاظ میں کہ صرف زبان پر