کا کیا بگاڑ لیا۔ایک مرتد ہو تا تو خدا سو لے آتا کیا یہ غور کی بات نہیں کہ اگر ہمارا کار خانہ خدائی نہ ہو تا تو یہ آج تک کب کا تبا ہو جاتا ۔ایک وہ وقت تھا کہ میں اکیلا پھر تا تھا اور اب وہ وقت ہے کہ دو لاکھ سے زیادہ آدمی میرے ساتھ ہیں ۔آج سے ۲۲۔۲۳ برس پیشتر اس نے بتلایا جوکہ براہین میں درج ہے کہ میں تجھے کامیاب کروں گااور لاکھوں آدمیوں کو تیرے ساتھ کروں گا ۔اس کتاب کو لے کر دیکھو اور پڑھو اور پھر سوچو کہ کیا یہ انسان کا فعل ہے کہ اس قدر دراز زمانہ پیشتر ایک خبر کو درج کرے اور پھر اس قدر مخالفت ہو اور وہ بات پوری ہو کر رہے پس جوشخص خدا کے اس فعل پر ایمان نہیں لاتا وہ بد بخت مرے گا۔ نشان نمائی کا مطالبہ کرنیوالے نشان دیکھنے والے دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو لیکھرامی کہ شوخی اور شرارت کرتے ہیںاور خدا کی باتوں پر ہنسی اور تمسخر اُن کا کام ہوتا ہے ایسے جہنم واصل ہوتے ہیں جیسے کہ لیکھرام ہوا۔ اور ایک وہ کہ سنت نبوی کے موافق نشان چاہتے ہیں کہ دنیا کی حیثیت بھی بنی رہے اور نشان بھی ظاہر ہو یہ نہیں کہ قیامت کا نمونہ اُن کے لیے ظاہر ہو اور خدا تعالیٰ تمام کائنات کو زیر وزبر کردے (اس صورت میں جب وہ خود مر ہی جائے گا تو نشان کان دیکھے گا)ایمان کی حد یہی ہے کہ عقل بھی خرچ ہو اور انسان فہم وفراست سے کام لے کر قرآئنِ مُرحجّہ کو دیکھے ۔نہ یہ چاہے کہ سب کچھ انکشاف ہو جاوے۔تو پھر اسے ثواب کس بات کا؟وہ تو ایمان ہی نہیں ہے جس میں پردہ نہیں ہے اس لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ جو لوگ نشان کو دیکھ کر ایمان لاتے ہیں ان کا ایمان نفع نہ دیگا۔انسان من وجہ دیکھے کہ زمانہ کی ضرورت کیا تقاضا کرتی ہے۔وہ ایک مصکح کو چاہتی ہے کہ نہیں۔پھر ان وعدوں پر نظر ڈا لے جو نصرت اور تائید کے خدا نے ہم سے قبل از وقت کئے اوروہ سب پورے ہوئے۔غرضیکہ ان سب باتوں پر جب یکجائی نظر کرکے پھر بھی کوئی نہیں مانتا تو وہ کبھی نہ مانے گا۔ایسے ضدّی لوگوں لوگوں کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بھی کہا کہ حرا مکارلوگ معجزہ طلب کرتے ہیں مگر اُن کو کوئی معجزہ نہ دیا جاوے گا۔پس ایسی باتوں سے ڈرنا چاہیئے۔آبائی تقلید اور رسم اور عقائد کی پابندی کا ڈر نہ ہونا چاہیئے یہ کوئی شئے نہیں ہیں۔نہاُن سے انسان کو تسلی ملتی ہے۔وہ نور جو آسمان سے نازل ہوتا ہے وہ حقیقی تسلی دیتا ہے۔ (البدؔر جلد ۲ نمبر ۴۸ صفحہ ۳۸۳ ،۳۸۴مورخہ ۲۴ ؍دسمبر ۱۹۰۳ئ؁) ۲۱؍دسمبر ۱۹۰۳ئ؁ تقریر کی اہمیت بعد نماز عید الفطر ظہر کے وقت جب حضرت اقدس مسجد میں تشریف لائے تو بعض اھباب نے ذکر کیا کہ گورداسپور میں ایک شخص ایسے ہیں جن