والے تھے طانکہ اب وہ پورے ہوئے ہیں اس لیے اب میں ایمان لایا ہوں۔ لیکن یہ اس کی غلطی تھی۔خدا نے مومنوں کے مختلف طبقات پیدا کئے ہیں لیکن ان میں سے وہ لوگ بہت تعریف کے قابل ہیں جو کسی راستباز کو چہرہ دیکھ کر شناخت لر لیتے ہیں۔ ایمان لانے والے تین قسم کے آدمی ہوتے ہیں ایک تو وہ جو چہرہ دیکھ کر ایمان لاتے ہیں دوسرے وہ جو نشان دیکھ کر مانتے ہیں۔تیسرا ایک ارذل گروہ کہ جب ہر طرح سے غلبہ حاصل ہوجاتا ہے اور کوئی وجہ ایمان بالغیب کی باقی نہیں رہتی تو اس وقت ایمان لاتے ہیں جیسے فرعون کہ جب غرق ہونے لگا تو اس وقت اقرار کیا۔ عمر کا اعتبار نہیں ہے غافل رہ کر اس بات کی انتظار کرنا کہ خدا خود خبر دیوے یہ نادانی ہے اب تو خود وقت ہی ایسا ہے کہ انسان خود سمجھ سکتا ہے۔دیکھنا چاہیئے کہ اسلام کی کیا حالت ہے۔ظاہری اور باطنی طور پر صلیبی مذہب غالب ہوگیاہے تو کیا اب ان وعدوں کی رُو سے جو کہ قرآن میں ہیں یہ وقت نہ تھا کہ خدا اپنے دین کی مدد کرتا۔اس کے علاوہ مدعی اور اس کے دعویٰ کے دلائل کو دیکھے اور غور کرے۔جو پیاسا ہے وہ دور رہ کر کنوئیں سے یہ کہے کہ پانی میرے منہ میں خود بخود آجاوے یہ نادانی ہے اور ایسا شخص خدا کی بے ادبی کرتا ہے۔ متقی کی تعریف تقویٰ اس بات کا نام ہے کہ جب وہ دیکھے کہ میں گناہ میں پڑتا ہوں تو دعا اور تدبیر سے کام لیوے ورنہ نادان ہوگا۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے من یتق اللہ یجعل لہ مخر جا و یرزقہ من حیث لا یحتسب(الطاق:۳۔۴) کہ جو شخص تقویٰ اختیار کرتا ہے وہ ہر ایک مشکل اور تنگی سے نجات کی راہ اس کے لیے پیدا کردیتاہے۔متقی درحقیقت وہ ہے کہ جہانتک اس کی قدر ت اور طاقت ہے وہ تد بیر اور تجویز سے کام لیتا ہے جیسا کہ قرآن شریف کے شروع میں اللہ تعالیٰ فر ماتا ہے ۔ الم ۔ذلک الکتاب لا ریب فیہ ھدی للمتقین الذین یو من بالغیب ویقیمون الصلوۃ ومما رزقنھم ینفقون۔(البقرۃ:۳۔۴) ایمان بالغیب کے یہ معنے ہیں کہ وہ خدا سے اٹ نہیں باندھتے بلکہ جو بات پردہ غیب میں ہوا س کو قرائن مرجّحہ کے لحاظ سے قبول کرتے ہیں اور دیکھ لیتے ہیں کہ صدق کے وجوہ کذب کے وجوہ پر غالب ہیں ۔یہ بڑی غلطی ہے کہ انسان یہ خیال رکھے کہ آفتاب کی طرح ہر ایک امر اس پر منکشف ہو جاوے ۔اگر ایسا ہو تا پھر بتلائو کہ اس کے ثواب حاصل کرنے کا کونسا موقعہ ملا ؟کیا اگر ہم آفتاب کو دیکھ کر کہیں کہ ہم اس پر ایمان لائے تو ہم کو ثواب ملتا ہے ؟ہرگز نہیں ۔کیوں؟صرف اس لئے کہ اس میں غیب کا پہلو کوئی بھی نہیں،لیکن جب