دیں گے؟ہم تو ان باتوں کو ہر روز مشاہدہ کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی قدرت کے تصرف دیکھتے ہیں۔یہ کہاں تک اعتراض کرینگے خدا شناسی کا مزا یہی ہے کہ ہر ایک قسم کی قدرت کا جلوہ نظر آوے۔ آریوں کی حالت آریوں کے خدا کی مثال تو ایسی ہے جیسے کسی کے ہاتھ میں ہڈی ہوتی ہے خدا تعالیٰ کی قدرتوں پر ایمان نہیں ہے اور جب یہ نہ ہو ا تو پھر اس سے نہ خوف ہوانہ طمع نہ محبت نہ عبادت۔ان کے لیے یہ جواب کافی ہے کہ ایک اندھے آدمی کے نزدیک ہر ایک رئویت قابلِ اعتراض ہوتی ہے ویسے ہی وہ بھی ان باتوں کے محسوس کرنے سے معذور ہیں کیونکہ ہر ایک شئے کی حس الگ الگ ہے۔جیسے آنکھ کی حس ہے۔تو اس سے کان کوئی فائدہ نہیں پا سکتا اور ناک کی حس کو آنکھ شناخت نہیں کر سکتی ایسے ہی ایک انسان جو کہ اعلیٰ قسم کے قویٰ لے کرآیا ہے اور اسے امور مدراء العقل کو محسوس کتنے کی قوت دی گئے ہے تو جو وہ دیکھتا ہے اگر دوسرے نہ دیکھیں تو سوائے اعتراض کے اور کیا کر سکتے ہیں؟آریوں کی مشابہت اس شخص سے ہو سکتی ہے جس کی ایک آنکھ یا کان نہ ہو اور وہ دوسرے کی آنکھ کان دیکھ کر اعتراض کرے۔وہ لوگ ان باتوں سے محروم ہیں اس لیے اعتراض کرتے ہیں۔ (البدؔر جلد ۶ نمبر ۴۸ صفحہ ۳۷۳ ،۳۸۳مورخہ ۲۴ ؍دسمبر ۱۹۰۳ئ؁) ۲۰؍ دسمبر ۱۹۰۳ئ؁ بوقتِ ظہر خدمتِ دین میںآنے والی موت حکیم آل محمد صاحب تشریف لائے اور حضرت اقدس علیہ السلام سے نیاز حاصل کیا اور عرض کی کہ امروہہ میں میرا یہی کام رہا ہے کہ اس سلسلہ الہیٰ کی تبلیغ کروں اور ایسی خدمت میں میری جان نِکل جاوے۔ حضرت اقدس نے فرمایا کہ اس سے بڑھ کر اور کیا دینی خدمت ہوگی مرنا تو ہر ایک نے ہی ہے اور اس جان نے ایک دن اس قالب کو چھوڑ نا ضرور ہے مگر کیا عمدہ وہ موت ہے جو خدمتِ دین میں آوے۔