ہے کہ تندرست ہے مگر معاً موت آدباتی ہے۔سو ان کا شور وشر بھی ایسا ہی ہے۔جس مذہب میں روحانیت اور خدا سے صافی تعلق نہیں ہوتا وہ بہت جلد تباہ ہوجاتا ہے۔ آریوں کی شوخی اور اس جوش وخروش سے معلوم ہوتا ہے کہ اُن کی زبان درازیوں اور شاخیوں کا بہت جلد خاتمہ ہوگا۔جب موسم بہار ہوتا ہے تو بہت سے کیڑے پیدا ہوتے ہیںپھر جب ان کو پر لگتے ہیں تو ہو بہت جلد ہلاک ہوجاتے ہیں۔اسی طرح اب خدا کے فضل سے اسلام کے لیے موسم بہار ہے ضرور ہے کہ ایسے کیڑے پیدا ہوں۔اب اُن کو پَر لگ گئے ہیں پس یہ بھی تھوڑی مدت کے مہمان ہیں۔اور اگر ذرااور غور سے دیکھا جاوے اور اُن کے سبّ وشتم کو الگ کردیا جاوے گا تو ایک طرح سے انہوں نے خدمت اسلام کی ہے۔کیونکہ زمانہ فیج اعوج تھا اور مولویوں وغیرہ سے کب یہ بات ہونی تھی کہ اس قدرہندوئوں سے بت پرستی وغیرہ ترک کرواتے۔ان لوغوں نے جو ہزاروں دیویوں اور بتوں کو ترک کیا ہے یہ خدمت اسلام ہی ہے۔ذرا روحانیت ان میں آئی تو فوج در فوج اسلام میں داخل ہوں گے۔پہلے زمانوں میں جب ہندو مسلمان ہوتے تھے وہ در حقیقت انتشارِروحانیت کا زمانہ تھا۔اس لیے گمراہ رہے۔ا ب جب روحانیت ان میں پیدا ہوئی اور حق کو انہوں نے شناخت لرلیا تو بڑی شرح صدر اور زور سے اسلام میں داخل ہوں گے۔یاد رکھو ایسے لوگوں سے ہرگز ڈرنا نہ چاہیئے۔ڈرنا ایسے شخص سے چاہیئے کہ جس میں روحانیت ہو اس لیے کہ اس کا حملہ خدا کا حملہ ہوتا ہے
یکسر الصلیب کے معنے
یکسر الصلیب کے یہ معنے نہیں ہیں کہ مسیح آکر اپنے ہاتھ سے صلیبوں کو توڑتا پھرے گا بلکہ کسر صلیب میں یہ بات داخل ہے اور ہر ایک اسے بے تکلف سمجھ سکتا ہے کہ اس زمانہ میں کسر صلیب کے سامان خود مہیا ہوجاویں گے۔اس کام کو ایک انسان (مسیح)کی طرف منسوب کرنا میرے نزدیک شرک ہے۔مطلب یہ ہے کہمسیح موعود ایسے زمانے کا آدمی ہوگا جس مین یہ سامان موجود ہوں گے اور وہ اس وقت موجود ہیں۔در حقیقت صلیب کا کا سر مسیح موعود نہ ہوگا بلکہ خود خدا ہوگا۔اور یہ خیال بھی غلط ہے کہ کوئی عیسائی دنیا میں نہ رہے گاسلام ہی اسلام ہوگا جبکہ خدا تعالیٰ خود قرآن شریف میں فرماتا ہے کہ اُن کا وجود قیامت تک رہے گا۔مطلب یہ ہے کہ نصاریٰ کا مذہب ہلاک ہوگا اور عیسائیت نے جو عظمت دلوں پر حاصل کی ہے وہ نہ رہے گی۔
(البدؔر جلد ۲ نمبر ۴۷ صفحہ ۳۷۳ ،۳۷۴مورخہ ۱۶ ؍دسمبر ۱۹۰۳ئ)