پس کیا کوئی ایسا ہے کہ اس محکم اور قطعی دلیل سے فائدہ اٹھاوے اور خدا تعالیٰ سے ڈرے؟ مَیں نہیں کہتا کہ بت پر ست عمر نہیں پاتے یا وہریہ یا اناالحق کہنے والے جلد پکڑے جاتے ہیں کیو نکہ ان غلطیوں اور اضلالتوں کی سزا دینے کے لیے دوسرا عالم ہے لیکن مَیں کہتا ہوں کہ جو شخص خدا تعالیٰ پر الہام کا افتراء کرتا ہے اور کہتا ہے کہ یہ الیام مجھ کو ہو ا حا لا نکہ جانتا ہے کہ وہ الہام اس کو نہیں ہوا وہ جلد پکڑا جاتا ہے اور اس کی عمر کے دن بہت تھوڑے ہو تے ہیں قرآن اور انجیل اور تورات نے یہی گو اہی دی ہے عقل بھی ہیہ گواہی دیتی ہے اور اس کے مخالفت کوئی منکر کسی تاریخ کے حوالہ سے ایک نظیر بھی پیش نہیں کر سکتا اور نہیں دکھلا سکتا کہ کوئی جھوٹا الہام کا دعویٰ کر نے والا پچیس برس تک یا اٹھارہ برس تک جھوٹے الہام دنیا میں پھیلاتا رہا اور جھوٹے طور پر خدا کا مقرب اور خدا کا مامور اور خدا کا فرستادہ اپنا نام رکھا اور اس کی تا ئید میں سالہا ئے دراز تک اپنی طرف سے الہامات اش کر مشہور کرتا اور پھر وہ باوجودان مجرمانہ حرکات کے پکڑانہ گیا کیا ا مید کی جاتی ہے کہ کوئی ہمارا اس سوال کا جواب دے سکتا ہے ؟ہر گز نہیں ان کے دل جانتے ہیں کہ وہ ان سوالات کے جواب دینے سے عاجز ہیں مگر پھر بھی انکار سے باز نہیں آتے ۔بلکہ بہت سے دلائل سے ان پر حجّت واردہو گئی مگر وہ خواب ِغفلت میں سورہے ہیں۔
(البدؔر جلد ۶ نمبر ۴۸ صفحات ۳۸۲ ،۳۸۳مورخہ ۲۴ ؍دسمبر ۱۹۰۳ئ)
۹؍دسمبر۱۹۰۳ء
ابراہیم علیہ السلام کو معجزانہ طور پر آگ سے بچایا جانا
جماعت میں سے ایک ہمارے مکرم دوست نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے آگ میں ڈالے جانے کے متعلق دریافت کیا کہ آریہ اس پر اعتراض کرتے ہیں اس پر حضرت اقدس علیہ السلام نے فر مایا کہ۔
ان لوگوں کے اعتراض کی اصل جڑ معجزات اور خوارق پر نکتہ چینی کرنا ہے ہم خدا تعالیٰ کے فضل سے دعویٰ کرتے ہیں اور اسی لیے خدا تعالیٰ نے ہمیں معبوث کیا ہے کہ قرآن کر یم میں جس قدر معجزات اور خوارق انبیاء کے مذکور ہوئے ہیں ان کو خود دکھا کر قرآن کی حقانیت کا ثبوت دیں ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ اگر دنیا کی کوئی قوم ہمیں آگ میں ڈالے یا کسی اَور خطرناک عذاب اور مصیبت میں مبتلا کر نا چاہے تو خدا تعالیٰ اپنے وعدہ کے موافق ضرور ہمیں محفوظ رکھے گا۔
بعد اس کے خدا تعالیٰ کے تصرفات اور اپنے بندوں کو عجیب طرح ہل کت سے نجات دینے کی مثالیں