کے دلوں میں زیغ اور کجی ہو تی ہے وہ متشابہات کی پیروی کرتے ہیں اور طالب صادق بّینات اور محکمات سے فائدہ اٹھاتے ہیں ۔یہود اور عیسائیوں کو یہ پیش آچکے ہیںپس مسلمانوں کے اولو لابصار کو چاہئیے کہ ان سے عبرت پکٹیں اور صرف متشابہات پر نظر رکھ کر تکذیب میں جلدی نہ کریں اور جوباتیں خدا تعالیٰ کی طرف سے کھل جائیں ان سے اپنی ہدایت کے لیے فائدہ اٹھائیں یہ تو ظاہر ہے کہ شک یقین کو رفع نہیں کر سکتا۔ پس پیشگوئیوں کا وہ دوسرا حصہ جو ظاہری طور پر ابھی پورا نہیں ہو اوہ ایک امر شکی ہے کیو نکہ ممکن ہے کہ ایلیاء کے دوبارہ آنے کی طرح وہ حصہ استعارہ یا مجاز کے رنگ میں پورا ہو گیا ہو مگر انتظار کرنے والا اس غلطی میں پڑا ہو کہ وہ ظاہری طور پر کسی دن پورا ہو گا اور یہ بھی ممکن ہے کہ بعض احادیث کے الفاظ محفوظ رہے ہوں کیو نکہ احادیث کے الفاظ وحی متلوکی طرح نہیں اور اکثر احادیث احاد کا مجموعہ ہیں اعتقادی امر تو الگ بات ہے جو چاہو ا عتقادر کھو مگر واقعی اور حقیقی فیصلہ یہی ہے کہ احاد میں عندالعقل امکان تغیرِالفاظ ہے چنانچہ ایک ہی حدیث جو مختلف طریقوں اور مختلف راویوں سے پہنچتی ہے اکثر ان کے الفاظ اور تربیت میں بہت سافرق ہو تا ہے حالا نکہ وہ ایک ہی وقت میں ایک ہی منہ سے نکلِی ہے پس صاف سمجھ آتا ہے کہ چو نکہ اکثر راویوں کے الفاظ اور طرزِبیان جُدا جُدا ہو تے ہیں اس لیے اختلاف پڑ جاتا ہے اور نیز پیشگوئیوں کے متشابہات کے حصہ میں یہ بھی ممکن ہے کہ بعض واقعات پیشگوئیوں کے جن کا ایک ہی دفعہ ظاہر ہو نا امید رکھا گیا ہے وہ تدریجاًظاہر ہوں یا کسی اَور شخص کے واسطہ سے ظاہر ہوں جیسا کہ ہمارے نبی ﷺکی یہ پیشگوئی کہ قیصر وکسریٰ کے خزانوں کی کنجیاں آپ کے ہاتھ پر رکھی گئی ہیں حالانکہ ظاہر ہے کہ پیشگوئی کے ظہور سے پہلے آنحضرتﷺ فوت ہو چکے تھے اور آنجناب نے نہ قیصر اور کسریٰ کے خزانہ کو دیکھا اور نہ کنجیاں دیکھیں مگر چو نکہ مقدر تھا کہ وہ کنجیاں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو ملیں کیو نکہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا وجود ظلّی طور گو یا آنجناب ﷺ کا وجود ہی تھا اس لیے عالمِوحہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا ہاتھ پیغمبر خدا ﷺ کا ہاتھ قرار دیا گیا ۔خلاصہ کلام یہ کہ دھوکا کھانے والے اسی مقام پر دھوکا کھاتے ہیں وہ اپنی بد قسمتی سے پیشگوئی کے ہر حصہ کی نسبت یہ امید رکھتے ہیں کہ وہ ظاہری طور پر ضرور پورا ہو گا اور پھر جب وقت آتا ہے اور کوئی مامور من اللہ آتا ہے تو جو علامتیں اس کے صدق کے صدق کی نسبت ظاہر ہو جائیں ان کی کچھ پروا نہیں رکھتے اور جو علامتیں ظاہری صورت میں پوری نہ ہوں یا ابھی ان کا وقت نہ آیا ہو ان کو بار بار پیش کرتے ہیں ہلاک شدہ اُمتیں جنہوں نے سچے نبیوں کو نہیں مانا ان کی ہلاکت کا اصل موجب یہی تھا اپنے زعم میں تو وہ لوگ اپنے تیئںبڑے ہو شیار جانتے رہے ہیں مگر ان کے اس طریق نے قبول ِحق سے ان کو بے نصیب رکھا۔
یہ عجیب ہے کہ پیشگوئیوں کی نافہمی کے بارے میں جو کچھ پہلے زمانہ میں یہود اور نصاریٰ سے وقوع میں آیا اور انہوں نے سچوں کو قبول نہ کیا ایسا ہی میری قوم مسلمانوں نے ہی میری قوم مسلمانوں نے میرے ساتھ معاملہ کیا یہ تو ضروری تھا کہ قدیم سنت اللہ