سیدوںکا جنہوں نے بینات کو دیکھ کر ایمان لانے میں تا خیر نہ کیاور کو حصہ متشابہات کا تھا اس کو استعارات اور مجازات کے رنگ میں سمجھ لیا۔آئندہ کے منتظر رہے ۱؎ اور اس طرح پر حق کو پالیا اور ٹھوکر نہ کھائی۔حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بھی ایسا ہی ہوا۔پہلی کتابوں میں حضرت مسیح علیہ السلام کی نسبت دوطور کی پیشگوئیاں تھیں ایک یہ کہ وہ مسکینوں اور عاجزوںکے پیرایہ میں ظاہر ہوگا۔اور غیر سلطنت کے زمانہ میں آئے گا اور دائود کی نسل سے ہوگا اور حلم اور نرمی سے کام لے گا اور نشان دکھلائے گا اور دوسری قسم کی یہ پیشگوئیاں تھیں کہ وہ بادشاہ ہوگا اور بادشاہ ہوں کی طرح لڑے گا اور یہودیوں کو غیر سلطنت کی ماتحتی سے چھڑا دیگا اور اس سے پہلے ایلیاء نبی دوبارہ دنیا میں آئے گا اور جب تک ایلیاء نبی دوبارہ دنیا میں نہ آوے وہ نہیں آئے گا۔پھر جب حضرت عیسیٰؑ نے ظہور فرمایا تو یہود دو فریق ہوگئے۔ایک فریق جو بہت ہی کم اور قلیل التعداد تھا۔اس نے حضرت مسیحؑ کو دائود کی نسل سے پا کر اور پھر ان کی مسکینی اور عاجزی اور استبازی دیکھکراور پھر آسمانی نشانوں کو ملا حظہ کرکے اور نیز زمانہ موجودہ کو دیکھ کر کہ ایک نبی مصلح کو چاہتی ہے اور پہلی پیشگوئیوں کے قرار داد وقتوں کا مقابلہ کر کے یقین کر لیا کہ وہی نبی ہے جس کا اسرائیل کی قوم کو وعدہ دیا گیا تھا ۔ سو وہ حضرت مسیح پر ایمان لائے اور ان کے ساتھ ہو کر طرح طرح کے دُکھ اُ ٹھا ئے اور خدا تعالیٰ کے نزدیک اپنا صدق ظاہر کیا لیکن جو بد بختوںکا گروہ تھا اُس نے کھلی کھلی علامتوں اور نشانوں کی طرف ذرہ التفات نہ کیا ۔یہانتک کہ زمانہ کی حالت پربھی ایک نظر نہ ڈا لی اورشریرانہ حجتّبازی کے ارادے سے دوسرے حصّہ کو جو متشابہات کا حصّہ تھااپنے ہاتھ میں لے لیا اور نہایت گستا خی سے اس مقدس کو گالیاں دینی شروع کیں اور اس کا نام ملحد اور بے دین اور کا فر رکھا اور یہ کہا کہ یہ شخص پاک نوشتوں کے اُلٹے معنے کو تا ہے اور اس نے نا حق ایلیاہ نبی کے دوبا ہ آنے کی تا ویل کی ہے اور نصِّ صریح کو اس کے ظاہر سے پھیرا ہے اور ہمارے علماء کو مکار اور ریا کا ر کہتا ہت اور کتبِمقدسہ کے اُلٹے معنے کرتا ہے اور نہایت شرارت سے اس بات پر زور دیا کہ نبیوں کی پیشگوئیوں کا ایک حرف بھی صادق نہیں آتا وہ نہ بادشاہ ہو کر آیا اور نہ غیر قوموں سے لڑا اور نہ ہم کو اُن کے ہاتھ سے چھوڑایا اور نہ اس سے پہلے ایلیاء بنی نازل ہو ا پھر وہ مسیح موعود کیونکر ہو گیا ۔
غرض ان بد قسمت شریروں نے سچایء کے انوار اور علامات پر نظر ڈالنا نہ چاہا ۔اور جو حصّہ متشابہات کاپیشگوئیوں میں تھا اس کو ظاہر پر حمل کر کے بار بار پیش کیا ۔یہی ابتلا ء ہمارے نبی ﷺ کے وقت میں اکژ یہودیوں