خیالات اور خدا کے احکام کو نظرِاستخفاف سے دیکنے سے معلوم ہوتا ہے کہ زمانہ عذاب کو چاہتا ہے۔ان لوگوں کی زندگی مردوں کی سی ہے۔انبیاء کے سلسلہ پر کہ جس کے ذریعہ سے ایمان حاصل ہوتا ہے اس اُن کو ایمان نہٰن ہے۔مگر ہم سچی اور حقیقی روئیت سے گواہی دیتے ہیں کہ خدا بر حق ہے اور سلسلہ انبیاء کا برحق ہے۔مرنے پر ان لوگوں کو پتہ لگے گا کہ جنت اور دوذخ سب کچھ جس سے آج یہ منکر ہیں،بر حق ہے۔ رعایت اسباب جب سے آزادی کے خیالات اور تعلیم نے دلوں اور دماغوں میں جگہ لی ہے اُس وقت سے بہت بگاڑپھیلاہے۔خیالات ایسے پراگندہ ہوئے ہیں کہ شریعت کو خود تر میم کر لیا ہے۔دنیا کو اپنا مقصود بنا رکھا ہے۔شریعت نے ایک حد تک رعایتِ اسباب کی اجازت دی ہے۔مثلاً ایک قطعہ کا ہو اور اُسے کاشت نہ کیا جاوے تو اس کی نسبت سوال ہو گا کہ کیوں کاشت نہ کیا؟مگر بہ ہمہ وجود اسباب پر سرنگوں ہونا اور اسی پر بھروسہ کرنا اور خدا پر توکل چھوڑ دینا یہ شرک ہے اور گویا خدا کی ہستی سے انکار۔رعایتِاسباب اس حد تک کرنی چاہیئے کہ شرک لازم نہ آوے۔ہمارا مذہب یہ ہے کہ ہم رعایتِ اسباب سے منع نہیں کرتے مگر اس پر بھروسہ کرنے سے منع کرتے ہیں۔دل یا یار اور دست باکار والی بات ہونی چاہیئے،لیکن حال میں دیکھا جاتا ہے کہ زبانوں پر تو سب کچھ ہے توکل بھی ہے۔توحید بھی ہے مگر دل مین مقصود بالذات صرف دنیا کو بنا رکھاہے۔رات دن اسی خیال میں ہیں کہ مال بہت سا مل جاوے۔عزت دنیا میں حاصل ہو۔یہ لوگ یہ خیال نہیں کرتے کہ ہم زہر کھا رہے ہیں جس نے ہلا ک کر دینا ہے۔ ہماری شریعت اور ہمارا دین دنیا میں کوشش کرنے سے نہیں روکتے صرف اتنی بات ہے کہ دین کو مقدم رکھ کراگر کوشش کرے تو تلاش اسباب جرم نہیں ہاں ایسے طور پر جسے خدا نے حرام ٹھہرا یا ہے نہ ہو۔جیسے کہ رشوت اور ظلم وغیرہ سے روپیہ کمایا جاتا ہے۔اگر خدا کی راہ میں صرف کرنے،اولاد پر خرچ کرنے اور صدقات وغیرہ کے لیے تلاش اسباب کی جائے تو ہرج نہیں کیونکہ مال بھی تو ذریعہ قرب الہیٰ ہوتا ہے مگر خدا کو بالکل چھوڑدینا اور بالکل اسباب کا ہو رہنا یہ ایک جذام ہے اور جب تک کہ قبض روح نہ ہوجاوے اس کی خبر نہیں ہوتی۔خدا سے ڈرنا اور تقویٰ اختیار کرنا یہ بڑی نعمت ہے جسے حاصل کرنا چاہیئے اور متکبر گردن کش نہ ہو نا چاہیئے۔ حقیقی اخلاق اخلاق دو قسم کے ہوتے ہیں ایک تو وہ ہیں جو آج کل کے نو تعلیم یافتہ پیش کرتے ہیں کہ ملا قات وحیرہ میں زبان سے چاپلوسی اور مداہنہ سے پیش آتے ہیں اور دلوں میں نفاق اور کینہ بھرا ہوا ہوتا ہے۔یہ اخلاق قرآن شریف کے خلاف ہیں۔دوسری قسم اخلاق کی یہ ہے کہ سچی ہمدردی کرے۔دل میں نفاق نہ ہو اور چاپلوس اور مداہنہ وغیرہ سے کام نہ لے جیسے خدا تعالیٰ فرماتا ہے ان اللہ یا مر بالعدل والا احسان وایتای ذی القربی(النحل:۹۱) تو یہ کامل طریق ہے اور ہر ایک