کی گھڑی میں بھی جان کی پروا نہ کی ۔آخر ایک سروراور لذت کی ہواان کے دل پر چلتی تھی جس کے سامنے یہ تمام فراق کے نظا رے ہیچ تھے اگر ان کو جبراًقتل کر دیا جا تا اور جان کے بچانے کا موقعہ نہ دیا جاتا تو اور بات تھی مجوراًتو ایک عورت کو بھی انسان قتل کر سکتا ہے مگر ان کو بار بار موقعہ دیا گیا باوجود اس مہلت ملنے کے پھر موت اختیار کر نی بڑے ایمان کو چاہیتی ہے اولیا ء اللہ کی ایک خصلت ہو تی ہے کہ وہ موت کو پسند کرتے ہیں سوانہوں نے ظاہر کی ۔ ہمارے کا م کا انسان ہمارے کا م کا وہ انسان ہو سکتا ہے جبکہ ایک مدّت اور نہیں تو کم ازکم ایک سال ہماری مجلس میں رہے اور تمام ضروری امور کو سمجھ لیوے اور ہم اطمینان پا جاویں کہ تہذیب نفس اسے حاصل ہو گئی ہے تب وہ بطور سفیر وغیرہ کے یورپ وغیرہ ممالک میں جاسکتا ہے مگر تہذیب ِنفس مشکل مرحلہ ہے پہاروں کی چوٹیوں پر چٹھنا آسان ،گر یہ مشکل ۔دینی تعلیم کے لیے بہت علوم کی ضرورت نہیں ہوتی ۔طہارت ِقلب اَور شئے ہے خدا ایک نور جب دل میں پیدا کردیتا ہے تو اس سے علوم خود حاصل ہو تے جاتے ہیں۔ (البدؔر جلد ۲نمبر۴۵ صفحہ ۳۵۴ تا ۳۵۵ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۰۳ئ؁ ) ۱۰؍ نومبر ۱۹۰۳ئ؁ بوقت ِظہر اپنے آپکوہر آن خدا تعالیٰ کا محتاج سمجھو شیخ فضل الہیٰ صاحب سوداگر ئیس صدر بازار راولپنڈی اور جناب محمد رمضان صاحب ٹھیکیدار جہلم اور چند دیگر اصحاب نے بیعت کی ۔بعد بیعت حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام نے ذیل کی تقریر فر مائی ۔ مذہب یہی ہے کہ انسان خوب غور کرے اور یکھے اور عقل سے سوچے کہ وہ ہر آن میں خدا کا محتاج ہے اسکی طرف عجزسے انسان کی جان پر ،مال پر ، آبرو پر بڑے بڑے مصائب اور حملے ہو تے ہیں ،لیکن سوائے خدا کے اور کوئی نجات دینے والا نہیں ہوتا اور ان مو قعوں پر ہر ایک قسم کا فلسفہ خو دبخود شکست کھا جاتا ہے جن لوگوں نے ایسے اصولوں پر قائم ہو نا چاہا ہے کہ جن میں وہ خدا کی حاجت کو تسلیم نہیں کرتے ۔حتیٰ کہ’’انشاء اللہ ‘‘ بھی زبان سے نکالنا ان کے نزدیک معیوب ہے مگر پھر بھی جب موت کا وقت آتا ہے تو ان کو اپنے خیالات کی حقیقت معلوم