ماتدہ اکثراشعار نے خود حضرت اقدس ہی کی زبان گو ہر فشان سے جنم لیا ہو ا ہے اور ان مواقع پر چسپاں بھی تھے اس واسطے مناسب مواقع پر لکھ دئیے گئے ہیں بذاتِ خود بھی یہ حقائق معارف کا ایک خزینہ ہیں وثوق کا مل ہے کہ ان کا ان مواقعات مناسبہ پر چسپاں ہو نا بفضلہٰ تعالیٰ بہت سے سعید فطرت روستی پسند طبائع کو تکشیف حقائق وتلخیص وقائقو میں مدددیگا ۔جس سے انکو احقاقِ حق وابطالِ باطل کی توفیق ملے گی اللہ کرے ایسا ہی ہو ۔آمین ثم آمین ۔والسلام ۔۵؍نومبر ۱۹۰۳ئ؁۔ امام صادق علیہ الصلوٰۃ واسلام کا کمترین خادم احقرالعباد الہ داد احمدی کلارک ضلع شاہ پور حال وار د قادیان ) (البدؔر جلد ۷نمبر۴۵ صفحہ ۳۵۲ تا ۳۵۴ مورخہ یکم دسمبر ۱۹۰۳ئ؁ ) نیز (الحکم جلد ۷نمبر۴۴۔۴۵ صفحہ۷۔۸ مورخہ ۳۰؍نومبر و۱۰؍دسمبر ۱۹۰۳ئ؁ ) ۵؍نومبر ۱۹۰۳ئ؁ اولیاء اصفیاء پر مصائب کی وجہ فر مایا کہ :۔ آج کل ہندستان سے ایک عورت ائی ہوئی ہے (ان کے خاوند بھی آئے ہوئے تھے)وہ اثر سوال کرتی رہتی ہیں اور میں اُن کو سمجھایا کرتا ہوں۔ایک دن سوال کیا کہ اولیاء اور پیغمبروں پر بڑی بڑی مصیبت آتی ہے اور وہ ہمیشہ نشانہ بنے رہتے ہیں۔تومیں نے جواب دیا کہیہ بات غلط ہے اور قرآن شریف کے بھی بالکل بر خلاف ہے۔خداتعالیٰ کے اولیاء اور نبیوں پر ہمیشہ اس کے انعامات ہوتے ہیں وہ ان کا ہر مقام میں محافظ وناصر ہوتا ہے پھر ان پر مصیبت کے کیا معنے؟عملی طور پر دیکھ لو کہ حضرت موسیٰ کو کیا کامیابی حاصل ہوئی۔ان کا دشمن غرقاب کیا گیا اور موسیٰ کو اس پر فتح حاصل ہوئی۔پھر دائود کو دیکھ لو۔عیسیٰ کو دیکھ لو کہ اُن کے دشمن ہمیشہ ذلیل وخوار ہوتے رہے اور یہ سب کامیاب ہوتے رہے۔ہمارے پیغمبر آنحضرتﷺ کو جو عروج ضاصل ہو کیا اس کی نظیر مل سکتی ہے؟ہر گز نہیں۔ہرگز ہرگز یہ لوگ فقرا ورذلت کے مصداق نہیں ہوتے۔ الدنیا سجن للمومن میں اگر سجن کے معنی نسبتی کریں کہ اہل اللہ کو جو کچھ جنت میں ملے گا اس کے مقابلہ میں یہ دنیا سجن ہے تو ٹھیک ہے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ ہم اولیاء کو کبھی عذاب نہیں کرتے بلکہ اس دلیل سے یہود ونصاریٰ کے دعویٰ کی تردید کرتا ہے ان دونوں نے دعویٰ کیا تھا کہ نحن ابنئو االلہ و احبا ئوہ کہ ہم خدا کے پیارے اور بمنزلہ