رہا ہے ۔استہزاء وتضحیک کا کونسا پہلو باقی چھوڑاگیا ہے ۔
یا حسر ۃ علی العیاد ما یا تیھم من رسول الا کا نو ابہ یستھذون (یس:۳۱)
مگر ان کی یہ فتنہ پر دازیاں وگر بہ مکاریاں کچھ بھی عند اللہ وقعت نہیں رکھتیں چہ جائیکہ ان کو کبھی کا میابی کا منہ دیکھنا بھی نصیب ہو ؎
چرا غیکہ ایزدبرفروزد
ہر آنکس تف زندریشش بسوزو
سچ پو چھو تو ان کی یہ مخالفتیں ہماری مزرعہ کا میابی کے لئے کھاد کا کام دے رہی ہیں کیو نکہ اگر مخالفو ں سے میدن صاف ہو جاوے تو اس میدان کے مردانِ کار زار کے جواہر کس طرح ظاہر ہو ں اور انعاماتِ الہیٰ کی غنیمت سے اُن کو کس طرح حصہ نصیب ہو اور اگر اعداء کی مخالفت کا بحرِموّاج پایاب ہو جاوے تو اس کے غوّاصوں کی کیا قدر ہو اور وہ بحرِ معانی کے بے بہا گوہر کو کس طرح حاصل کر سکیں ۔مادرّ ما قیل ؎
گر نبو دے در مقابل روئے مکروہ وسیاہ کس چہ دانستے جمال شاہد گلفام را
گر نیفتادے بخصمے کاردر جنگ ونبرد کے شود جوہر عیاں شمشیر خوں آشام را
اس مخالفت کا کوئی ایسا ہی سِّر معلوم ہو تا ہے والاً ان کی مخالفت کے ارادے عنداللہ کیا قدر رکھتے ہیں ۔اس ذات قادرِ مطلق کا تو صاف حکم ہے
ان حزب اللہ ھمالغالبون (المائدۃـ:۵۷)
اور اس جنگ و جدال کا آخری انجام بھی بتا دیا ہے کہ
والعاقبۃ للمتقین( الاعراف :۱۲۹)
مگر افسوس کہ با اینہمہ کو تا ہ اندیش نہیں سمجھتے حالانکہ اس نصرت ِالہیٰ وتائیدایزدی کا انہیں مشاہدہ وتجربہ بھی ہو تا رہتا ہے اور ان کی مذلّت وخسان ونا مرادی کا انجام بھی کوئی پوشیدہ نہیں ہے کیوں نہ ہو ؎
خدا کے پاک لوگوں کو خدا سے نصرت آتی ہے جب آتی ہے تو پھر علم کو اک عالم دکھاتی ہے
وہ بنتی ہے ہوا اور ہر خسِ راہ کو اُڑاتی ہے وہ ہو جاتی ہے آگ اور ہر مخالف ہو جلاتی ہے غرض رُکتے نہیں ہر گز خداکے کام بندوں سے بھلا خالق کے آگے خلق کی کچھ پیش جا تی ہے
قطع نظر ان یبوست مجسم مولویوں اور خشک ملا نوں کے موجودہ زمانہ کے فقراء کا گروہ بھی کم نہیں ہے ان میں ریا کاری وذاتی اغراض کی ایک زہر ہو تی ہے جوآخر کا ر ان کو ہلاک کر ڈالتی ہے ان کا زہر ایک قول وفعل وعمل ان کی نفسانی اغراض کے تا بع ہو تا ہے اور اس میں کوئی نہ کو ئی نہاں درنہاں ذاتی غرض مر کو ز خاطر ہو تی ہے ۔مثلاً خواہش مسنرات وطلب ِدنیا وجاہ طلبی وغیرہ وغیرہ تا کہ لوگ ان کی طرف رجوع کر یں اور ان کی دنیوی عزت ومال ومتاع میں ترقی ہو کجس سے اپنے نفسِ اماّرہ کو خوش رکھیں۔یہ ایسا سّمِ قاتل ہے کہ اس کا انجام ہلاکت ہے بعض ان میں سے زمین کھود کر چلہ کرتے ہیں نہ یہ حکم ِالہیٰ ہیاور نہ سنتِ نبوی۔ ریاکا ری ومکّاری کا خودتر اشیدہ