ولولہ عشق الہیٰ میں سر شارر ہتے ہیں گویا
لاخوف علیھم ولا یحذنون (البقرہ:۱۱۳)
کے پورے مصداق ہو جاتے ہیں۔ما در ماقال ؎
کلید ایں ہمہ دولت محبت است ووفا
خوشا کسیکہ چینں دولتش عطا باشد
غرض استقامت بڑی چیز ہے۔ استقامت ہی کی بدولت تمامگروہ انبیاء ہمیشہ مظفر ومنصورو بامراد ہوتا چلا آیاہے۔ذات تقدس مآ ب باری تعالیٰ کے ساتھ ایک خالص ذاتی تعلق وگہرا پیووند قائم کر نا چاہئیے جب یہ تعلّق پورا قائم ہو جاوے پھر ہر ایک قسم کے خوف وخطر سے محفوظ ومطمین ہو جاتا ہے اور انشراح صدر کے بعد تمام بو جھ ہلکے ہو جاتے ہیں ایسا کیو ں ہو تا ہے ؟صرف اس لیے کہ ان کو’’ہر کہ در ایزدی یا فت بازبردرِدیگر نتانیت‘‘ پر حق الیقین ہو جاتا ہے اور اس کی پر ثمر تا ثیرات اُن کے لوحِقلب پر منقش ہو جاتی ہیں اور انکے رگ وریشہ میں سرایت کرگئی ہو تی ہیں اور بوجہ استیلائے محبت وتعشقِالہیی وشہودو عظمت وجلال ذات کبریائی ان کے قلب ِسیلم کا یہی درد ہو جاتا ہے ؎
نہ ازچینم حکا یت کن نہ از روم ؛ کہ دارم ولستانے اندریںبوم
چوںروئے خوب اوآید بیاوم ؛ فراموشم شود موجود ومعروم
آپ اپنے سارے ضسم وجان روح ورواں کے ساتھ اللہ تعالیٰ کے ہو جاویں ۔پھر خدا تعالیٰ خود بخود تم سب کا حافظ وناصر معین وکار ساز ہو جاوے گا چاہئیے کہ انسان کے تمام قویٰ آنکھ ۔کان ۔ دل ۔دماغ ۔دست وپا جملہ متمسک باللہ ہو جاویں ان میں کسی قسم کا اختلاف نہ رہے اسی میں تمام کا میابیاں ونصرتیں ہیں یہی اصل مراقبہ ہے اسی سے حرارت قلبی وروحانیت پیدا ہو تی ہے اور اسی کی بدولت ایمان ِکا مل نصیب ہو تا ہے ۔
سب سے اوّل تو انسان کو اپنا مرض معلوم کرنا چاہئیے جب تک مرض کی تشخیص نہ ہو علاج کیا ہو سکتا ہے اللہ تعالیٰ کے ساتھ اطمینان نہ پانا یہی خطرناک مرض ہے یہ وہ حالت ہے جبکہ انسان نفسِامّارہ کے زیرِحکم چل رہا ہو تا ہے اس وقت صرف محرکات بدی یعنی شیطان ہی کی اس پر حکومت ہو تی ہے اور انہیں اللہ تعالی سے دُور افتادہ ہلاک ہو نے والی ناپاک روحوں کا اس پر اثر ہو تا ہے ۔
اس سے ذرا اُوپر انسان تر قی کرتا ہے تو اس وقت اس کا اپنے نفس کے ساتھ ایک جہاد شروع ہو جاتا ہے اس کی ایسی حالت کا نام لّوامہ ہے اس وقت اگر چہ محرکات بدی سے اس کو پوری مخلصی نہیں ہو تی مگر محرکات ِنیکی یعنی ملائکہ کی پاک تحریکات کی تاثیریں بھی اس پر مو ثر ہو نے لگ جاتی ہیں ان نیک تحریکات کی قوت وطاقت سے نفس ِامّارہ سے اس کی ایک قسم کی کشتی ڈٹ جاتی ہے اور ان کی مدد سے تحریکاتِ بدی پر