استقلال واستقامت ضروری ہے جب یہ امر حاصل ہو جاوے تو پھر اللہ تعالیٰ کے فضلوکرم سے جذب القلوب کا عمل بتدریج خود بخود شروع ہو جاویگا جس سے صادقین کی معیت کی توفیق ملے گی اور اس صیقل تعشقِ الہیٰ سے زنگا ر آئینہ دلِمحوہو کر تزکئیہ نفس وتطہیرِقلب نصیب ہو گا ۔مگر تلاش ِحق کا بیج بونا مقدم ہے جس سے صدق وصفا کا پر ثمر نخل پیدا ہوتا ہے اور محبت ذات زبّانی کی آب پاشی سے نشوونماپاتا ہے ۔ بمنزلِ جاناں رسد ہماں مروے کہ ہمہ دم درتلاش ِاودواںباشد آپ اپنی پہلی حالت کو یاد کریں جبکہ آغازسال ۱۸۸۶ئ؁ میں صرف حسبۃ للہ کا جوش آپکو کشاں کشاں یہاں لایا تھا اور آپ پا پیادہ افتاں وخیزاں اس قدر ور فاصلہ سے پہلے قادیان پہنچے تھے اور جب کہ ہم کو اس جگہ نہ پایا تو اسی بیتابی وبء قراری کے جوش میں تگاپو کرکے پیدل ہی ہمارے پاس پو شیار پور جاپہنچے تھے اور جب وہاں سے واپس ہو نے لگے تو اس وقت ہم سے جُدا ہو نا آپ کو بڑا شاق گذرتا تھا اب تو ایسا وقت آگیا ہے کہ آپ کو آگے ہی قدم مارنا چاہئیے نہ یہ کہ الٹا تساہل وتکاسل میں پڑیں ۔اب تو زمانہ بزبانِ حال کہہ رہا ہے اور نشا نات وعلامات سماوی بآواز دُہل پُکاررہے ہیں کہ چنیں زمانہ چنیں دور ایں چنیں برکات تو بے نصیب روی وہ چہ ایںشفاباشد فلک قریب زمیں شدزبارش برکات کجاست طالبِحو تایقین فزاباشد بجزاسیریٔ عشق ِرہائی نیست بدردِاُوہمہ امراض را دواباشد غرض کہ پوری مستعدی و ہمت سے استقلال دکھلاویں۔یہ آثار پژمردگی ہمیں بر محل معلوم نہیں ہوتے۔یہاں کا رہنا تو ایک قسم کا آستانہ ایزدی پر رہنا ہے۔اس حوض کوثر سے وہ آب حیات ملتا ہے کہ جس کے پینے سے حیاتِجاودانی نصیب ہوتی ہے جس پر ابدالآباد تک موت ہرگز نہیں آسکتی۔اچھی طرح کمر بستہ ہوکر پورے استقلال سے اس صراط مستقیم کے راہ رو بنیں اور ہر قسم کی دنیاوی روکاوٹوں اور خواہشوں کی ذرہ پروانہ کرکے اللہ تعالیٰ کے صادق مامور کی پوری معیت کریں تا کہ حکم کونوا مع الصدقین کی فرمانبرداری کا سنہری تمغہ آپ کو حاصل ہو۔ یاد رکھیں کہ راستی وصداقت کے فرزند ہمیشہ جاہ وجلال کے تاج زریں کے وارث ہو اکرتے ہیں۔راستبازی کے حاسد دشمنوں کا جو انجام ہوا کرتا ہے وہ بھی پوشیدہ نہیں ؎ بسوزدآنکہ نہ سوزد بصدق در رہ یار بمیرد آنکہ گریزندہ از فنا باشد