اگر ایک بادشاہ ماں کو یہ حکم دیوے کہ تو اس بچے کو اگر مار بھی ڈالے تو تجھ سے کوئی باز پرس نہ ہوگی تو وہ کبھی یہ بات نہ سنناگوارانہ کرے گی اور اس بادشاہ کو گالی دے گی۔حالانکہ اسے علم بھی ہو کہ اس کے جوان ہو نے تک میں نے مر جانا ہے مگر پھر بھی محبت ذاتی کی وجہ سے وہ بچہ کی پرورش کو ترک نہیں کرے گی۔اکثر دفعہ ماں باپ بوڑھے ہوتے ہیں اور ان کو اولاد ہوتی ہے تو ان کی کوئی امید بظاہر اولاد سے فائدہ اٹھانے کی نہیں ہوتی لیکن باوجود اس کے پھر بھی وہ اس سے محبت اور پرورش کرتے ہیں۔یہ ایک طبعی امر ہوتا ہے جو محبت اس درجہ تک پہنچ جاوے اسی کا اشارہ ایتای ذی القربی(النحل:۹۱) میں کیا گیا ہے ا س قسم کی محبت خدا تعالیٰ کے ساتھ ہونی چاہیئے۔نہ مراتب کی خواہش نہ ذلت کا ڈر۔جیسے آیت لا نرید منکم جزاء ولا شکورا(الدھر:۱۰) اسے ظاہر ہے غرضکہ یہ باتیں ہیں جن کو یاد رکھنا چاہیئے۔ ( البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ صفحہ ۳۳۳تا۳۳۵ مورخہ ۱۶؍ نومبر ۱۹۰۳ئ؁) یکم نومبر۱۹۰۳ئ؁ تہجد کا نماز کا طریق عبد الغریز صاحب سیالکوٹی نے لائل پور میں یہ مسئلہ بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ تہجد کی نماز اس طرح سے جیسا کہ اب تعا مِل اہل ِاسلام ہے بجا نہ لاتے بلکہ آپ صرف اُٹھ کر قرآن پڑھ لیاکرتے اور ساتھ ہی یہ بھی بیان کیا کہ یہی مذہب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلا م کا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃوالسلا م کی خد مت میں بوساطت منشی نبی بخش صاحب اور مولوی نورالدین صاحب یہ امر تحقیق کے لیے پیش کیا گیا جس پر حضرت امام الزمانعلیہ السلام نے مفصلہ ذیل فتویٰ دیا۔ میر ایہ مذہب ہر گز نہیں کہ آنحضرت ﷺ اُٹھ کر فقط قرآن شریف پڑھ لیا کرتے تھے اور بس ۔مَیں نے ایک دفعہ یہ بیان کیا تھا کہ اگر کوئی شخص بیمار ہو یا کو ئی اَور ایسی وجہ ہو کہ وہ تہجد کے نوافل ادا نہ کرسکے تو وہ اُٹھ کر استغفار ،درودشریف اور الحمدشریف ہی پڑھ لیا کرے ۔آنحضرت ﷺ ہمیشہ نوافل ادا کرتے ۔آپ کثرت سے گیارہ۱۱؎ رکعت پڑھتے آٹھ نفل اور تین وتر آپ کبھی ایک ہی وقت میں ان کو پڑھ لیتے اور کبھی اس طرح سے ادا کرتے کہ دو رکعت پڑھ لیتے اور پھر سوجاتے اور پھر اُٹھتے اور دو رکعت پڑھ لیتے اور سوجاتے ۔غرض سوکر اور اُٹھ کر نوافل اسی طرح ادا کرتے جیسا کہ اب تعامل ہے اور جس کو اب چودھویں صدی گذررہی ہے۔ ( البدر جلد ۲ نمبر ۴۳ صفحہ ۳۳۵ مورخہ ۱۶؍ نومبر ۱۹۰۳ئ؁)