ہے جو ان کو دنیا میں ملتی رہی اور آخرت میں بھی ملے گی تو مومنوں اور کافروں میں کیا فر ق ؟ ان سب چیزوں کے حاصل کر نے میں تو کافر اور مشرک بھی شریک ہیں ۔پھر اس میںبہشت کی خصوصیت کیا ہے ؟لیکن قرآن شریف اور احادیث صحیحہ سے ثابت ہے کہ بہشت کی نعمتیں ایسی چیزیں ہیں جو نہ کسی آنکھ نے دیکھیں ۔نہ کسی کا ن نے سنیں اور نہ دلوں میں گذریں اور ہم دنیا کی نعمتوں کو دیکھتے ہیں کہ وہ سب آنکھوں نے دیکھیں ،کانوں نے سنیں اور دل میں گذریـ ہیں ۔اس سے معلوم ہو تا ہے کہ اگر چہ ان جنتی نعمتوں کا تمام نقشہ جسمانی رنگ پر ظاہر کیا گیا ہے مگر وہ اصل میں اَور ہیں ورنہ
رزقنا من قبل (البقرۃ:۲۶)
کے کیا معنے ہو ں گے اس کے وہی معنے ہیں جو کہ
من کان فی ھذہ اعمی فھوفی الاخرت اعمی(بنی اسرائیل :۱۷۳)
کے ہیں ۔دوسرے مقام پر قرآن شریف فر ماتا ہے ۔
ولمن خاف مقام ربہ جنتان (الرحمان:۴۷)
جو شخص خدا تعالیٰ سے خائف ہے اور اس کی عظمت اور جلال کے مرتبہ سے ہرا ساںہے اس لے لیے دو بہشت ہیں ایک یہی دنیا اور دوسری آخرت ۔جو شخص سچّے اور خالص دل سے نقشِ ہستی کو اس کی راہ میں مٹا کر اس کے متلاشی ہو تے ہیں اور عبادت کرتے ہیں تو اس میں ان ان کو ایک قسم کی لذت شروع ہو جاتی ہے اور ان کو وہ روحانی غذائیں ملتی ہیں جو روح کو روشن کرتی اور خدا تعالیٰ کی معر فت کو بڑھاتی ہیں ایک جگہ پر شیخ عبدالقادر حمتہ اللہ علیہ فر ماتے ہیں کہ جب انسان عارف ہو جاتا ہے تو اس کی نماز کا ثواب مارا جاتا ہے ۔اس کے یہ معنے نہیں ہیں کہ اس کی نماز اب بارگاہ ِالہیٰ میں قبول نہیں ہوتی بلکہ یہ معنے ہیں کہ چونکہ اب اسے لذت شروع ہو گئی ہے تو جو اجراس کا عنداللہ تھا وہ اب اسے دنیا میں ملنا شروع ہو گیا ہے جیسے ایک شخص اگر دودھ میں برف اور خوشبو وغیرہ ڈال کر پیتا ہے تو کیا کہہ سکتے ہیں کہ اسے ثواب ہو گا کیو نکہ لذت تو اس نے اس کی یہیں حاصل کر لی خدا تعالیٰ کی رضا مندی اور کسی عمل کی قبولیت اور شئے ہے اور ثواب اَور شئے ہے ہر ایک لفظ اپنے اپنے مقام کے لیے چسپاں ہوتا ہے اسی لحاظ سے شیخ عبدالقادر صاحب نے فر مایا کہ عارف کی نماز کا ثواب مارا جاتا ہے جو اہل حال ہوتا ہے وہ اپنی جگہ پورے بہشت میں ہوتا ہے اور جب انسان کو خدا تعالیٰ سے پورا تعلق ہو جاتا ہے تواغلال اور اثقال جس قدر بوجھ اس کی گردن میں ہوتے ہیں وہ سب اٹھائے جاتے ہیں وہ لذت جو خدا تعالیٰ کی طرف سے اس کی عبادت میں حاصل ہو تی ہے وہ اَور ہے اور کو اکل وشرب اور جماع وغیرہ میں حاصل ہوتی ہے وہ اَور ہے لکھا ہے کہ اگر ایک عارف درواز بند کرکے اپنے مولا سے راز ونیاز کر رہا ہو تو اُسے اپنی عبادت اور اس راز ونیاز کے اظہار کی بڑی غیرت ہو تی ہے اور ہو ہر گز اس کا افشاپسند نہیں کرتا اگر اس وقت کوئی دروازہ کھول کر اندر چلا جاوے تو وہ ایسا ہی نادم اور پشیمان ہوتا ہے جیسے زانی زنا کرتا پکڑا جاتا ہے جب اس لذت کی حد کو انسان پہنچ جاتا ہے تواس