الہیٰ کی بجاآوری میں اپنے نفس کو ذرہ بھی دخل نہ دیا اور ایک ذراہ سا اشارہ سے بیٹے کو ذبح کرنا شروع کردیا مگر یہ لوگ اسلام کی اس حقیقت سے نے خبر ہیں۔جو کام ہیں ان میں ملونی ہوتی ہے۔اگر کوئی ان میں سے رسالہ جاری کرتا ہے تو اس سے مقصود یہ ہوتا ہے کہ روپیہ کماوے بال بچے کا گذارہ ہو ابھی حال میں ایک شخص کا خط آیا ہے لکھتا ہے کہ میں نے عبد الغفور کے مرتد ہونے پر اس کی کتاب ترک اسلام کے جواب میں ایک رسالہ لکھنا شروع کیا ہے امداد فرماویں۔ان لوگوں کو اس بات کا علم نہیںہے کہ اسلام کیا شئے ہے۔خداتعالیٰ کی طرف سے کوئی نفخ روح اس میں نہیں لیکن رسالہ لکھنے کو تیار ہے۔ایسے شخص کو چاہیئے تھا کہ اوّل تزکیہ نفس کیلئے خود یہاں آتا اور پوچھتا اور اوّل خود اپنے اسلام کی خبر لیتا،لیکن عقل،ذہانت اور سمجھ ہوتی تو یہ کرتا۔مقصود تو اپنی معاش ہے اور رسالہ کو ایک بہانہ بنایا ہے۔ہر ایک جگہ یہی بدبو آتی ہے کہ جو کام ہے خدا کے لیے نہیں بیوی بچوں کے لیے ہے۔جو خدا کا ہوجا تا ہے تو خدا اس کا ہو جاتا ہے اور اس تائید یں اور نصرت کا ہاتھ اس کے کا موں سے معلوم ہو جاتا ہے اور آخر کار انسان مشاہدہ کرتا ہے کہ ایک غیب کا ہاتھ ہے جو اسے ہر میدان میں کامیاب کررہا ہے۔انسان اگر اس کی طرف چل کر آوے تو وہ دوڑکر آتا ہے اور اگر وہ اس کی طرف تھوڑا سا رجوع کرے تو وہ بیت رجوع ہوتا ہے۔وہ بخیل نہیں ہے۔سخت دل نہیںہے۔جو کوئی اس کا طالب ہے تو اس کا اوّل طالب وہ خود ہوتا ہے۔لیکن انسان اپنے ہاتھوں سے اگر ایک مکان کے دروازے بند کردیوے تو کیا روشنی اس کے اندر جاوے گی؟ہرگز نہیں۔یہی حال انسان کے قلب کا ہے۔اگر اس کا قول و فعل خدا تعالیٰ کی رضا کے موافق نہ ہوگا اور نفسانی جذبات کے تلے وہ دبا ہوا ہوگا تو گویا دل کے دروازے خود بند کرتا ہے کہ خدا کا نور اور روشنی اس میں داخل نہ ہو،لیکن اگر وہ دروازوں کو کھولے گا تو معاًنور اس کے اندر داخل ہوگا۔
ابدال،قطب اور غوث وغیرہ جس قدر مراتب ہیں یہ کوئی نماز اور روزوی سے ہاتھ نہیں آتے ۔ اگر ان سے یہ مل جاتے تو پھر یہ عبادات تو سب انسان بجا لاتے ہیں ۔ سب کے سب ہی کیوں نہ ابدال اور قطب بن گئے ۔ جب تک انسان صدق و صفاکے ساتھ خدتعالیٰ کا بندہ نہ ہوگا ۔ تب تک کوئی درجہ ملنا مشکل ہے ۔ جب ابراہیم کینسبت خداتعالیٰ نے شہادت دی
وابراھیم الذی وفی (النجم:۳۸)
کہ ابراہیم وہ شخص ہے جس نے اپنی بات کو پورا کیا۔ تو اس طرح سے اپنے دل کو غیر سے پاک کرنا اور محبت ِ الہٰی سے بھر نا ‘ خداتعالیٰ کی مرضی کے موافق چلنا اور جیسے ظلّ ِاصل کا تابع ہوتا ہے ویسے ہی تابع ہو نا کہ اس کی اور خدا کی مرضی ایک ہو کوئی فرق نہ ہو۔یہ سب باتیں دُعا سے حاصل ہوتی ہیں ۔ نماز اصل میں دعا کے لئے ہے کہ ہر ایک مقام پر دُعا کرے ‘ لیکن جو شخص سویا ہوا نماز ادا کرتا ہے کہ اُسے اس کی خبر ہی نہیں ہوتی تو وہ اصل میں نماز نہیں ۔ جیسے دیکھاجاتا ہے کہ بعض لوک پچاس سال نماز پڑھتے ہیں ‘ لیکن ان کو کوئی فائدہ نہیں ہوتا حالانکہ نماز وہ شئے ہے کہ جس سے پانچ