اور وہ بہت بڑی نہ ہو گی کیو نکہ ایک ہی اعتراض کو ہر ایک فرقہ نے بار بار تکرا ر سے بیان کیا ہے اس لیے وقتاً فوقتاً اگر اس کی حقیقت آپ کے ذہن نشین کر دی جا وے تو اس حصہ کی تفسیر ہو جاوے اور اس کے ذریعہ سے یورپ میںہرایک اعتراض کا جواب دیا جا سکے اور اس طرح سے جو ھو کا اہل یورپ کا لگا ہے وہ نکل جا وے گا ۔ (البدؔرجلد ۲ نمبر ۴۱،۴۲ صفحہ۳۲۲۔ ۳۲۳مورخہ۲۹؍اکتوبر و۸ ؍نو مبر۱۹۰۳ئ)
(۲۴؍اکتوبر ۱۹۰۳ئ)
ظہر کے وقت حضرت اقدس علیہ اسلام نے یہ تقریر فر مائی :۔
تر کِ دنیا کی اہمیت
جو شخص دنیا کو ردّ نہیں کر سکتا وہ ہمارے سلسلہ کی طرف نہیں آ سکتا ۔دیکھو حضرت ابو بکرؓ نے سب سے اوّل دنیا کو ردّ کیا اور آپ کی آخری پوشاک یہی تھی کہ کمبل پہن کر آپ آحاضر ہو ئے اسی لیے اللہ تعالیٰ نے آپ کو سب سے اوّل تخت پر جگہ دی وجہ اس کی یہی تھی کہ آپ نے سب سے اوّل فقر اختیار کیا تھا خدا تعالیٰ کی ذات پاک ہے کہ کسی کا قرضہ اپنے ذمہ نہیں رکھتی ۔اوائل میں نقصان ضرور ہو تے ہیں دوستوں یاروں کے تعلقات قطع کرنے پڑتے ہیں لیکن ان سب کا بدلہ آخر کار دیتاہے ۔ایک چوڑھے اور چمار کی خاطر جب ایک کام کیا جاوے اور تکلیف برداشت کی جاوے تو وہ اپنے ذمہ نہیں رکھتا تو پھر خدا کس لیے اپنے ذمہ رکھے وہ آخر کار سب کچھ دید یتا ہے ۔
بار ہا ہم نے سمجھایا ہے کہ جس شخص کو اور اور اغراض سوائے دین کے ہیں وہ ہمارے سلسلہ میں داخل نہیں ہو سکتا۔دو کشتیوں میں پائوں رکھ کر پار اُترنا مشکل ہے اس لیے جو ہمارے پاس آویگا وہ مر کر آوے گا لیکن خدا اس کی قدر کریگا اور وہ نہ مرے گا جب تک کہ دنیا میں کامیابی نہ دیکھ لے جو کچھ برباد کرکے آویگا خدا اسے سب کچھ پھر دیگا۔لیکن ایک دنیا دار قدم نہیں اُٹھا سکتا ۔اصل بات یہ ہے کہ انسان خود ہی غداری کرتا ہے کہ نام تو خدا کی طرف آنے کا کرتا ہے اور اس کی نظر اہل دنیا کی طرف ہوتی ہے۔
جو قدر اس سلسلہ میں داخل ہونے کیاس وقت ہے وہ بعد ازاں نہ ہوگی۔مہاجرینوغیرہ کی نسبت قرآن شریف میں کیسے کیسے الفاظ آئے ہیں جیسے رضی اللہ عنہم۔لیکن جو لوگ فتح کے بعد داخل ہوئے کیا اُن کو بھی یہ کہا گیا؟ہر گز نہیں۔ان کا نام ناس رکھا گیا۔اور لوگوں سے نڑھ کر کوئی خطاب ان نہ ملا۔خدا کے نزدیک عزتوں اور خطابوں کے یہی وقت ہوتے ہیں کہ جب اس سلسلہ میں داخل ہونے سے برادری،رشتہ داری وغیرہ سب دشمن جان ہو جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ شرک کو ہرگز پسند نہیں کرتا کہ کچھ حصہ غیر کا بلکہ ایک