منصوبے اور چارلا کیاں رکھتا ہے ان پر بھروسہ کرتا ہے تو وہ بھی شرک ہے ۔ حضرت جنید رحمتہ اللہ علیہ کا حال بیان کرتے ہیں کہ ایک شخص نے ان کو خواب میں دیکھا اور پوچھا کہ بتلاؤ اللہ تعالیٰ سے معاملہ کیسے ہوا تو انہوں نے بتلایا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھ سے سوال کیا کہ عمل لایا ہے۔مَیں نے کہا اَور عمل تو کو ئی نہیں ہے صرف یہ ہے کہ مَیں نے ع،مر بھر شرک نہیں کیا تو اللہ تعالیٰ نے فر مایا کہ کیا تو نے یوم اللبن کے دن بھی شرک نہ کیا تھا کہ دُودھ پی کر کہا کہ اس سے پیٹ میں درد ہوئی ہے گو یا دودھ کو خدا سمجھ لیا تھا اور خدا پر سے جو حقیقی فاعل ہے نظر اُٹھ گئی تھی۔ نفسانی جذبات ہزاروں قسم کے ہیں جو کہ انسان کو لگے ہو ئے ہیں ان کو دیکھا جاوے تو سرسے لیکر پاؤں تک ظلم ہی ظلم ہے سرتکبّراور گنمڈ کی جگہ ہے آنکھ بُرے خیالات کا مقام ہے غضب کی نظر سے بھی انسان اسی سے دوسرے کو دیکھتا ہے کان بیجاباتیں سنتے ہیں زبان بُری باتیں بولتی ہے گردن اکڑتی ہے صدورمیں کِن کِن بُری باتوں کی خواہش ہوتی ہے نیچے کا طبقہ بھی کچھ کم نہیں ہے فسق وفجور میں جہان اسی کے باعث مبتلا ہے پاؤں بھی بیجا مقامات پر چل کر جاتے ہیں غرض یہ ایک لشکر اور جماعت ہے جسے سنبھال کر رکھنا انسان کا کام ہے اور یہ بڑی بات ہے ۔ ایک طرف تو خدا نے کشتی کا حوالہ دیا ہے کہ جو اس میں چڑھے گا وہ نجات پاوے گا اور ایک طرف حکم دیا ہے ولا تخاطبنی فی الذین ظلموا(ھود:۳۸) ملے یہاں بھی ظلم کی نسبت ہی فر مایا کہ جو لوگ ظالم ہیں تو ان کو نسبت بات ہی نہ کر ۔خوف الہیٰ اور تقویٰ برکت والی شئے ہے انسان میں اگر عقل نہ ہو مگریہ باتیں ہوں تو خدا اسے اپنے پاس سے برکت دیتا ہے اور عقل بھی دے دیتا ہے جیسا کہ فر ماتا ہے ئجعل لہ مخرجا(الطلاق:۳) اس کے یہی معنے ہیں کہ جس شئے کی ضرورت اسے ہو گی اس کے لیے وہ خود رَاہ پیدا کردیگا بشرطیکہ انسان متقی ہو ،لیکن اگر تقویٰ نہ ہو گا تو خواہ فلا سفر ہی ہو وہ آخر کار تباہ ہو گا دیکھو کہ اسی ہندو ستان پنجاب میں کسقدر عالم تھے مگر ان کے دلوں میں اور زبانوں میں تقویٰ نہ رہا۔محمد حسین کی حالت دیکھو کہ کیسی گندی اور فحش باتیں اپنے رسالہ اشاعتہ میں لکھتا رہا اگر تقویٰ ہوتا تو وہ کب ایسی باتیں لکھ سکتا تھا۔ اس کے بعد چند احباب نے بیعت کی اور بعد بیعت ضرت اقدس نے ایک طویل تقریر فر مائی جو کہ ذیل میں درج ہے :۔ حقیقتِ بیعت اور اس سے فیض پانے کی راہ یہ بیعت جو ہے اس کے معنے اصل میں اپنے تیئں بیچ دنیا ہے اس کی برکات ہے کہ گو یا وہ کسان کے