کہ جس کی جان صلیب پر نکل جاوے اور جس کی جان نہ نکلے اسے مصلوب نہیں کہتے کوخواہ وہ صلیب پر چڑھا کر اتا ر لیا گیا ہو یہودی زند ہ موجود ہیں ان سے دریا فت کر لو کہ آیا مصلوب کے یہ معنے ہیں جو ہم کر تے ہیں یا وہ جو ہمارے مخالف کر تے ہین پھر محاورہ زبا ن کو بھی دیکھنا چا ہیئے۔
ماصلبوہ
کیسا تھ ہی
ما قتلوہ
رکھ دیا کہ بات سمجھ میں آجا وے کہ صلیب سے مراد جان لینی تھی جو کہ نہیں لی گئی اور صلیبی قتل وقوع میں نہیں آیا ۔
شبہ لھم(النسائ:۱۵۸)
کے معنے ہیں مشبہ با لمصلوب ہو گیا اس میں لو گوں کا یہ قول کہ کو ئی اور آدمی مسیح کی شکل بن گیا تھا با لکل با لکل ہے عقل بھی اسے قبول نہیں کر تی اور نہ کو ئی روایت اس کے با رے میں صحیح مو جود ہے بھلا سو چکر دیکھو کہ اگر کو ئی اورمی آدمی مسیح کی شکل بن گیا تھا تو وہ دو حال سے خالی نہ ہو گا تو مسیح کا دوست ہو گا یا اس کا دشمن اگر دوست ہو گا تو یہ اعتراض ہے کہ جس لعنت سے خدا نے مسیحؑ کو بچا نا چا ہاوہ اد کے دوست کو کیوں دی؟ اس سے خدا ظا لم ٹھہرتا ہے اور اگر وہ دشمن تھا تو اسے کیا ضرورت تھی ۔کہ وہ مسیح کی جگہ پھا نسی ملتا اس نے دوہائی دی ہو گئی اور چلا یا ہو گا کہ میرے بیوی بچوں سے پو چھومیرا فلاں نا م ہے اور مَیں مسیح نہیں ہو ں۔پھر اکثر موجود آدمیوں کی تعداد میں سے بھی ایک آدمی کم ہو گیا ہو گا جس سے معا ًپتہ لگ سکتا تھا کہ یہ سخص مسیح نہیں غرضیکہ ہر طرح سے یہ خیال با کل ہے اور
شبہ لھم (النسائ)
سے مراد
مشبہ با لمصلوب
ہے ۔
محمد عبدالحق صاحب:۔ یہ خیال یو رپ میں ایک انقلاب ِعظیم پیدا کر ے گا کیو نکہ وہاں لوگوں کو دھو کا دیا گیا ہے اور کچھ کا کچھ سمجھا یا گیا ہے ۔
حضرت مسیح موعود علیہ السلام :۔ عام لوگ جو بیان کر تے ہیں یہ منشا قرآنِ کریم کا ہر گز نہیں ہے اور اس سے لوگوں کودھو کا لگا ہے۔
محمد عبدالحق صاحب:۔ اسلام کے عقاید ہم تک عیسا ئیوں کے ذریعہ پہنچے ہیں اور اسلام کا صل چہرہ دیکھنے کے واسطے مَیں با ہر نکلا ہوں ۔
حضرت مسیح موعودعلیہ السلام:۔ یہ خدا کا بڑا فضل ہے اور خوش قسمتی آپ کی ہے کہ آپ ادھر آنکلے یہ بات واقعی سچ ہے کہ جو مسلمان ہیں یہ قرآن شریف کو با لکل نہیں سمجھتے لیکن اب خدا کا ارادہ ہے کہ صحیح معنے قرآن کے ظاہر کر ے خدا نے مجھے اسی لیے مامور کیا ہے اور مَیں اس کے الہام اوروحی سے قرآن شریف کو سمجھتا ہوں قرآن شریف کی ایسی تعلیم ہے کہ اس پرکو ئی اعتراض نہیں آسکتا اور معقولا ت سے ایسی پر ہے کہ ایک فلا سفر کو بھی اعتراض کا مو قعہ نہیں ملتا مگر ان مسلمانوں نے قرآن کر یم کو چھوڑ دیا ہے اور اپنی طرف سے ایسی ایسی با تیں بنا کر قرآن شریف کی طرف منسوب کر تے ہیں جس سے قد م قدم پر اعتراض وار د ہو تا ہے اور ایسے