حصول کی لو گوں سے اس نے با ند ھی ہو تی ہے ان سب پر پا نی پھر جا تا ہے۔ جیسا کہ دنیا کی یہ قدیمی سنت چلی آئی ہے۔ ان تمام نا امید یوں اور ما یو سیوں کے لیے تیا ر رہنا اور ان کا بر داشت کر نا ضروری ہے انسا ن اگر شیر دل ہو کر ان کا مقابلہ کر ے تو ٹھہر سکتا ہے ورنہ دیکھاگیا ہے کہ لوگ شوق سے اس میدا ن میں داخل ہو تے ہیں مگر جب یہ تمام بو جھ ان پر پڑتے ہیں تو آخر کا ر دنیا کی طرف جھک کا تے ہیں ان کا قلب اس نقصان کو جو دنیا اور اس کے اہل سے پہنچتا ہے برداشت نہیں کر سکتا اس لیے ان کا انجا م ان کے دل سے بھی بدتر ہو تا ہے ۔تو یہ امر ضروری ہے کہ دنیا کا لعن طعن برداشت کر کے اور ہر طرح سے نا امید یوں کے لییء تیا ر ہو ۔کر اگر داخل سلسلہ ہو تو حق کو جلد پا وے گا اور جو کچھ اسے ابتدا میں چھوڑ نا پڑ یگا وہ سب آخر کا ر اللہ تعالیٰ اسے دید ے گا ایک تخم جس کے لیے مقدر ہے کہ وہ پھل لا وے اور بڑا درخت بنے ضرو ہے کہ اول چند دن مٹی کے نیچے دبا رہے تب وہ درخت بن سکے گا اس لیے صبر ضروری ہے تا کہ وہ اپنے آپ کو گرا دے پھر قدرت الہیٰ اسے اٹھا وے جس سے اس کا نشوونما ہو مسڑوب پہلی دفعہ اسی طرح ہماری طرف جھکے مگر پیچھے وہ قائم نہ رہ سکے اب وہ تما م با توں کا اعتراف کر تے ہیں ۔ محمد عبدالحق صاحب :۔ بذریعہ وکتا بت مسڑویب سے میری ملاقات ہے اور مَیں ان کو اس وقت سے جا نتاہوں جبکہ وہ ہندوستان میں آئے اور ان کے حا لا ت سے خوب واقف ہوں اور جو شرائط اپنے سلسلہ میں داخل ہو نے کے آپ نے بیان کئے ہیں مَیں ایہی کو اسلام کی شرائط خیال کر تا ہوں جو مسلمان ہو گا اس کے لیے ان تمام با توں کا نشا نہ ہونا ضروری ہے آپ کے سا تھ ملنے سے جو نقصانا ت مجھ کو ہو سکتے ہیں اکثر مسلمان لو گوں نے اول ہی سے مجھے ان کی اطلا ع دی ہے اور با وجود اس اطلا ع اور علم کے میں یہاں آیا ہوں ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام :۔ہمارے اصولوں میں سے ایک یہ بھی ہے کہ ہم ایک سادہ زند گی بسر کر تے ہین کہ وہ تمام تکلفا ت جو کہ آج کل یو رپ نے لوامِ زند گی بنا رکھے ہیں ان سے ہماری مجلس پاکل ہے رسم وعادت کے ہم پا بند نہیں ہے اس حد تک ہر ایک عادت کی رعا یت رکھتے ہیں کہ جس کے تر ک سے کسی تکلیف یا معصیت کا اند شیہ ہو با قی کھا نے پینے اور نشست وبر خاست میں ہم سادہ زند گی کو پسند کر تے ہیں ۔ محمد عبد الحق صاحب :۔ جب سے مَیں اسلام میں داخل ہوا ہوں اور رو حا نیت سے حصہ لیا ہے مَیں سادگی سے محبت کر تا ہوں اسی لیے اگر یہاں رہوں تو مجھے تکلیف نہ ہو گی دنیا میں مَیں نے جسقدر سفر کیا ہے اس سے مجھے تجربہ ہو ا ہے ند گی والا اور گو شہ نشین انسان بہت آرام سے زند گی بسر کر تا ہے ۔ (البدؔرجلد ۲ نمبر ۴۱،۴۲ صفحہ۳۲۴۔ ۳۲۵مورخہ۲۹؍اکتوبر و۸ ؍نو مبر۱۹۰۳؁ئ)