۲۲؍ اکتو بر۱۹۰۳؁ء ایک آسڑیلوی نو مسلم کے استفسارات کے جوابات ایک یورپین صاحب ۔۔۔۔ بہمراہی میاں معراج الدین عمر وحکیم نور محمد صاحب احمدی ۔۔۔۔۔۔ عصر کے وقت قادیان پہنچ گیے جہاں قادیانی احمدی احباب نے بڑے تپاک سے ان کا استقبال کیا ۔نماز مغرب میں وہ جماعت کے ساتھ شامل ہوئے ۔۔۔۔ بعد ادائیگی نماز میاں معراج الدین عمرنے ان کو حضرت اقدس سے انٹر وڈیوس کیا اور ان کے مزید حالات سے یوں اطلاع دی کہ یہ ایک صاحب ہیں جو کہ اسٹریلیا سے آئے ہیں ۷ سال سے مشرف با سلام ہیں اخبارات میں بھی آپ کا چر چا رہا ہے آسٹریلیا سے یہ لنڈن گئے اور وہاں سفیرِروم سے انہوں نے ارادہ ظاہر کیا کہ اسلامی علوم سے واقفیت حاصل کر نا چاہتا ہوں ۔سفیرِ روم نے ان کو کہا کہ تم قاہر ہ (داراسلطنت)مصر میں جاو مگر تا ہم مشورہ کے طور پر لارڈ سٹینلے نے ان کو مشورہ دیا کہ تمہارا یہ مدعا بمبئی میں حاصل ہو گا یہ وہاں پھر تے ہوئے کلکتہ آئے ۔راستہ میں ایک رُؤیا دیکھی ۔اور اس جگہ سے لاہور وآئے۔جہاں کہ انہوں نے حضور کا تذکرہ سُنا ۔اب زیارت کے لیے یہاں حاضر ہوئے۔اب ہم ذیل میں وہ گفتگو درج کرتے ہیں جو کہ نومسلم صاحب اور حضرت اقدس مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام کے درمیان ہوئی۔مشرف باسلام ہو کر ان کا نام محمد عبد الحق رکھا گیا تھا ۔ ذیل کی گفتگو جوکہ محمد عبد الحق اور حضرت اقدس کے مابین ہوئی ۔اس کے ترجمان خواجہ کمال الدین صاحب بی۔اے پلیڈر تھے۔ محمد عبد الحق صاحب:۔میں جہاں کہیں بھی پھر تا رہا ہوں میر ا واسطہ ایسے مسلمانوں سے رہا ہے جو یا تو خودانگر یزی جانتے تھے اوربا لمشافہ مجھ سے گفتگو کرتے تھے اور یا نذریعہ تر جمان کے ہم اپنے مطالب کا اظہار کرتے تھے میَں نے ایک حد تک لوگوں کے خٰالات سے فائدہ اُٹھایا اور بیرونی دنیا میں جو اہلِ اسلام ہیںانکے کیا حا لات اور خیالات ہیں ۔اس کے تعارف کی آرزو رہی ۔رُوحانی طور سے جو میل جول ایک کو دوسرے سے ہو سکتا ہے اس کے لیے زباندانی کی ضرورت نہیں ہے اوراس رُوحانی تعلق سے انسان ایکدوسرے سے جلد مستفید ہو سکتا ہے ۔ حضرت مسیح موعود علیہ السلام:۔ہمورے مذہبِ اسلام کے طریق کے موافق روحنی طریق صرف دعا اور توجہ ہے