کبھی ان کو ما نتا ہے اور کبھی اپنی منواتا ہے ایک طرف فر ماتا ہے
ادعونی استجب لکم(المومن:۶۱)
دوسری طرف فرماتا ہے
ولنبلو نکم بشئی من الخوف(البقرۃ:۱۵۶)
اس سے معلوم ہو تا ہے کہ ہر ایک مقام دعا کا نہیں ہو تا
نبلو نکم
کے مو قعہ پر
انا للہ وانا الیہ راجعقن(البقرۃ:۱۵۷)
کہنا پڑ ئے گا یہ مقام صبر اور رضا کے ہو تے ہیں لوگ ایسے موقعہ پر دھو کا کھا تے ہیں اور کہتے ہیں کہ دعا کیوں قبول نہیں ہو تی ان کا خیال ہے کہ کدا ہماری مٹھی میں ہے جب چا ہیں گے منو الیں گے بھلا اما م حسین علیہ السلام پر جو ابتلا آیا تو کیا انہوں نے دعا نہ ما نگی ہو گی اور آنحضرتﷺ کے اس قدر بچے فوت ہو ئے تو کیا آپ نے دعا نہ کی ہو گی بات یہ ہے کہ مقام صبر اور رضا کے ہو تے ہیں ۔
۱۹؍ اکتو بر ۱۹۰۳ء
تو بہ کی حقیقت
آریہ لوگ جو یہ اعتراض کرتے ہیں کہ پر میشر صرف تو بہ کرنے سے گناہ بخشتا ہے اور ان بد اعمالیوں کے نتائج نہیں ملتے جو اس نے کئے اس لیے یہ انصاف سے بعید ہے ۔اس پر حضرت اقدس نے فر مایا کہ :۔ان لوگوں کو توبہ کی حقیقت کا علم نہیں ۔توبہ اس بات کا نام نہیں کہ صرف منہ سے توبہ کا لفظ کہہ دی جاوے بلکہ حقیقی توبہ یہ ہیکہ نفس کی توبہ کی جاوے ۔جو شخس توبہ کرتا ہے وہ اپنے نفس پر انقلاب ڈالتا ہے گویا دوسرے لفظوں میں وہ مر جاتا ہے ۔خدا کے لیے جو تغیر عظیم انسان دکھ اُٹھا کر کرتا ہے تو وہ اس کی گذشتہ بد اعمالیوں کا کفارہ ہو تا ہے ۔جس قدر ناجائز ذرائع معاش کے اس نے اختیار کئے ہوئے ہوتے ہیں ان کو وہ تر ک کرتا ہے ۔عزیزوں دوستوں اور یاروں سے جدا ہو تا ہے ۔برادری اور قوم کو اسے خدا کے واسطے ترک کرنا پڑتا ہے جب اس کا صدق کمال تک پہنچ جاتا ہے تو وہی ذات پاک تقاضا کرتی ہے کہ اس قدر قر بانیاں جو اس نے کی ہیں وہ اس کے اعمال کے کفارہ کے لیے کافی ہوں ۔
اہل اسلام میں اب صرف الفاظ پرستی رہ گئی ہے اور وہ انقلاب جسے خدا چاہتا ہے وہ بھول گئے ہی اس لیے انہوں نے توبہ کو بھی الفاظ تک محدود کر دیا ہے لیکن قرآن شریف کا منشاء یہ ہے کہ نفس کی قربانی پیش کی جاوے
من قضٰی نحبہ (الاحذاب:۲۴)
دلالت کرتا ہے کہ وہ توبہ یہ ہے جو انہوں نے کی اور
من ینتظر
بتلاتا ہے کہ یہ وہ توبہ ہے جو انہوں نے کرکے دکھلانی ہے اور وہ منتظر ہیں ۔
جب انسان خدا تعالیٰ کی طرف بکّلی آجاتا ہے اور نفس کی طرف کو بکلّی چھوڑ دیتا یے تو خداتعالیٰ اس کا