نیّت میں کوئی صر یح تعصب مشاہدہ نہ کروں ایساہی ہر ایک دفعہ بغیر آپ کے کسی حق کے کرایہ دے سکتا ہوں محض ایک نادار خیال کر کے نہ کسی اور وجہ سے۔
الراقم خاکسار میرزا غلام احمد
۶ اکتوبر ۱۹۰۳ء
یہ رقعہ لے کر بھی میاں گُل محمد کو قرار نہ آیا اور جبکہ ظہر کے وقت حضرت اقدس تشریف لائے تو کہنے لگے جو الفاظ میں ایزاد کرانا چاہتا ہوں وہ کر دو مگر خدا کے مسیح نے اسے مناسب نہ جانا اور آخر میاں گُل محمد صاحب رخصت ہوئے ۔ (البدؔرجلد ۲ نمبر ۳۹ صفحہ ۲۰۵،۳۰۶ مورخہ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ئ)
۱۴؍ اکتو بر ۱۹۰۳ء
دربار شام
دنیا کی تلخیاں
حضرت اقدس نے شام کے وقت ایک مختصر تقریر دنیا کی تلخیوں پر فرما ئی جس کا خلا صہ یہ ہے ۔
تعجب ہے کہ انسان اس (دنیا) میں راحت اور آرام طلب کرتا ہے حالا نکہ اس میں بڑی بڑی تلخیاں ہیں خویش واقاب کو ترک کر نا دوستوں کا جدا ہو نا ۔ہر ایک محبوب سے کنا رہ کشی کر نا البتہ آرام کی صورت یہی ہے کہ خدسا تعالیٰ کے ساتھ دل کگا یا جا وے جیسے کہا ہے
جز بخوت گا ہِ حق آرام نیست
انسان ایک لحظ میں خوشی کرتا ہے تو دوسرے لخظ میں اسے رنج ہو تا ہے لیکن اگر رجن نہ ہو تو پھر خوشی کا مزا نہیں آتا جیسے کہ پا نی کا مزا اسی وقت آتا ہے جبکہ پیاس کا دور محسوس ہواس لیے درد مقدم ہے۔
(البدؔرجلد ۲ نمبر ۳۹ صفحہ۲۰۶ مورخہ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ئ)
۱۵؍ اکتو بر ۱۹۰۳ء
دربار شام
شام کے وقت ایک صاحب نے ایک بیگم صاحبہ کا پیغام آکر دیا کہ وہ کہتی ہیں کہ اگر میرا فلاں فلاں کام