واسطے میر ے پاس آوے زمانہ دن بدن راستی اختیار کر تا رہتا ہے عیسا ئی مذہب کی تردید اور کسر صلیب کیلئے جو کچھ مجھے خدا نے عطا کیا ہے اس کعو بتلا کو مَیں ہر وقت تیا ر ہوں لیکن دوسرے مو قعہ پر جب آپ آوینگے تو جیسے آپ کا حق ہو گا سوال کریں ویسا ہی میرا حق ہو گا کہ ایک سوال کروں اور وہ سوال صرف مسیح کی الو ہیت تثلیث اور چا ل چلن کی نسبت ہو گا لیکن جیسے مَیں نے اس سوال کو مشخص کر دیا ہے ۔ویسے ہی آپ کو لا زم ہے کہ آپ بھی اپنے سوال کومشخص کر دیو یں کہ تیاری کا موقعہ مل جا وے ۔
گل محمد صاحب :۔ ہاں آپ بھی ایک سوال کر یں جیسے مجھے تلا شِ حق کی ضرورت ہے ویسے ہی آپ پر ضروری ہے کہ آپ اظہار ِحق کر یں ۔
حضرت اقدس:۔ یہ آپ سچ کہتے ہیں مگر میرے اظہار ِحق کی شہادت تو یو رپ اور امر یکہ دے رہا ہے ابھی آپ کے سامنے اخبارات پڑھے گئے ہیں۔
گل محمد صاحب :۔ لیکن ایک بات ضروری ہے کہ اگر مَیں دوسرے موقعہ پر آوں اور آپ کو پھر فرصت نہ ہو تو چو نکہ مَیں ایک غریب آدمی ہوں اس لیے آمد ورفت کا خرچہ آپ پرہو گا۔
حضرت اقدس:۔ اگر غیریب ہو تو آمدورفت کا کرایہ ہم دیدیا کریں گے اگر ہم اس طرح بو جہ نہ ہو نے فر صت کے سو دفعہ واپس کریں گے تو سودفعہ کرایہ دیں گے ۔
میاں گل صاحب نے کرایہ اس دفعہ کا طلب کیا اور اسی وقت ان کی غربت کا خیال کر کے ان کی دوخواست پر تین روپے ان کو دے دیئے گئے ان با توں پر بعض احباب میں چر چا ہوا تو میاں گل محمد صاحب نے حضرت اقدس کو مخاطب ہو کر کہا ۔
حضر ات اقدس:۔ یہ یادرکھئے ۔ہمارے کا م محض لِلّٰلہ ہیں یہاں تمسخر اور مذاق نہیں ہے ہم تو ہر ایک بار اپنے اوپر ڈالتے ہیں اگر تمسخر ہو تا تو یہ زیر ماری کیوں اختیار کر تے اور تین روپیہ آپ کو دے دیتے بلکہ تلاشَ حق کے لیے تو کو ئی لنڈن سے بھی چل کر آوے تو ہم اس کا کرایہ دینے کو تیا ر ہیں ۔
(البدؔرجلد ۲ نمبر ۳۹ صفحہ ۲۰۵ مورخہ۱۶؍اکتوبر ۱۹۰۳ئ)
۶؍ اکتو بر ۱۹۰۳ء
آج کے دن میاں گل محمد صاحب نے پھر ایک حجت کھڑی کی ۔اور حضرت اقدس کی تحریر لینے کی