دربارشام ۱؎
موت سے بڑ ھکر کو ن صح ہو سکتا ہے َ؟
موت اور اس کی تلخیوں کا ذکر چل پڑا اس پر حضرت اقدس نے فرمایا :۔
انسان ۲؎ ان موتوں سے عبرت نہیں پڑتا حالا نکہ اس سے بڑھ کر اور کو ن نا صح ہو سکتا ہے جسقدر انسان مختلف بلاو اور ممالک میں مرتے ہیں اگر یہ سب جمع ہو کر ایک دروازہ سے نکلیں تو کیسا عبرت کا نظارہ ہو ۔
پھر مختلف امراض اس قسم کے ہیں کہ ان میں انسان کی پیش نہیں جا تی ایک دفعہ ایک شخص میرے پاس آیا اس نے بیان کیا کہ میرے پیٹ میں رسولی پیدا ہوئی ہے ۔اور وہ دن بدن بڑھ کر پا خانہ کے راستہ کو بند کر تی جاتی ہے جس ڈاکڑ کے پاس مَیں گیا ہوں وہ یہی کہتا ہے کہ اگریہ مرض ہمیں ہو تی تو ہم بندوق مار کر خود کشی کر لیتے آخر وہ بیچا رہ اسی مرض سے مرگیا ۔
بعض لوگ ایسے مسلول ہو تے ہیں کہ ایک ایک پیا لہ پیپ کا اندر سے نکلتا ہے ایک دفعہ ایک مریض آیا ۔ اس کی یہی حالت تھی صرف اس کا پو ست ہی رہ گیا تھا اور وہ سمجھدار بھی تھا مگر تا ہم وہ یہی خیال کرتا تھا کہ مَیں زندہ ر ہو ں گا ۔
انسان کی سخت دلی اصل میں امیدوں پر ہو تی ہے۔ لیکن انبیاء کی یہ حالت نہیں ہو تی ۔جسقدر انبیا ء ہو ئے ہیں سب کی یہ حالت رہی ہے کہ اگر شام ہو ئی ہے تو صبح کو ان کی امید نہیں کہ ہم زندہ رہیں گے ۔اور اگر صبح ہو ئی ہے تو شام کی امید نہیں کہ ہم زندہ رہیں گے جب تک انسان کا یہ خیال نہ ہو کہ مَیں ایک مر نے والا ہوں تب تک وہ غیر اللہ سے دل لگا نا چھوڑ نہیں سکتا اور آخر اس قسم کے انکار میں جان دیتا ہے مر نے کے