ہو سکتا ہے مگر اس سے یہ ہر گز نہیں سمجھنا چا ہیئے کہ نماز کو اپنی زبان میں پڑھو نہیں میرا یہ مطلب ہے کہ منون ادعیہ اور اذ کار کے بعد اپنی زبان میں بھی دعا کیا کرو ورنہ نماز کے ان الفاظ میں ِخدا نے ایک برکت رکھی ہو ئی ہے نماز دعا ہی کا نام ہے ااس لیے اس میں دعا کرو کہ وہ تم کو دنیا اور آخرت کی آفتوں سے بچا وے اور خاتمہ با لخیر ہو ۱؎ اپنے بیوی بچوں کے لیے بھی دعا کرو نیک انسان بنو ہر قسم کی بدی سے بچتے رہو ۔ (الحکم جلد ۷ نمبر ۳۸ صفحہ۲ بابت ۱۷؍اکتوبر ۱۹۰۳؁ئ) ۳۰؍ ستمبر ۱۹۰۳؁ء ہمیشہ موت کو یادرکھو ابو سعید صاحب احمدی نے حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام سے عرض کی کہ مَیں دو تین یوم کے بعد واپس رنگون جا نیوالا ہوں ۔ حضور سے دو خواست ہے کہ میرے حق میں دعا فر ما ئیں ۔آپ نے فرمایا کہ:۔ انشاء اللہ تعالیٰ دعا کروں گا دنیا ایسے ہی تفرقہ کی جگہ ہے ہمیشہ موت کو یادرکھو چند روز زندگی ہے اس پر نازاں نہ ہو نا چا ہیئے جو راستی پر ہو اور خداتعالیٰ پر بھروسہ کر نے والا ہو تو خدا اس کے ساتھ ہو تا ہے ۲؎ (البدؔرجلد ۲ نمبر ۳۸ صفحہ۲۹۸ مورخہ۹؍اکتوبر ۱۹۰۳؁ئ) 4؍اکتوبر ۱۹۰۳؁ء (بوقت ظہر ) حضرت اقدس علیہ الصلوٰۃ والسلام ظہر کی نماز ادا کر کے تشریف لے جا رہے تھے کہ سیٹھ احمددین صاحب آمدہ از جہلم نے غرض کی کہ گذشتہ ایام میں ایک شخص بیعت کر کے گیا ہے مگر وہ کہتا ہے کہ میری علمی