حا لا ت پر نا دم اور شر مساررہے جو تو بہ کے زمانہ سے پہلے گذری ہے ۔ انسا ن کی عمر کے کئی حصے ہو تے ہیں اور ہر ایک حصہ میں کئی قسم کے گناہ ہو تے ہیں مثلاً ایک حصہ جوانی کا ہو تا ہے جس میں اس کرحسبِ حال جذبات کسل وغفلت ہو تی ہے پھر دوسری عمر کا ایک حصہ ہو تا ہے میں دغا ۔فریب ۔ریا کاری اور مختلف قسم کے گناہ ہو تے ہیں غرض عمر کا ہر ایک حصہ اپنی طرز کے گناہ رکھتا ہے ۔ پس یہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کہ اس نے تو بہ کا دروازہ کھلا رکھا ہے اور وہ تو بہ کر نے والے کے گناہ بخش دیتا ہے اور تو بہ کے ذریعہ انسان پھر اپنے رب سے صلح کر سکتا ہے۔ دیکھو انسان پر جب کو ئی جرم ثابت ہو جا ئے تو وہ قابل ِسزا ٹھہرا جا تا ہے جیسے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔ من یات ربہ مجر ما فان لہ جھنم (طہٰ :۷۵) یعنی جو اپنے رب کے حضور مجر م ہو کر آتا ہے اس کی سزا جہنم ہے وہاں وہ نہ جیتا ہے نہ مرتا ہے یہ ایک جرم کی سزا ہے اور جو ہزاروں لا کھو ں جرموں کا مر تکب ہو اس کا کیا حال ہو گا لیکن اگر کو ئی شخص عدالت میں پیش ہو اوربعد ثبوت اس پر فردقرارداد جرم بھی لگ جاوے اوراس کے بعد عدالت اس کو چھوڑ دے تو کس قدر احسان عظیم اس حاکم کا ہو گا۔ اب غور کرو کہ یہ تو بہ وہی بریت ہے جو فرد قرار داد جرم کے بعد حاصل ہو تی ہے تو بہ کر نے کے ساتھ ہی اللہ تعالیٰ پہلے گناہوں کو معاف کر دیتا ہے ۔ اس لیے انسا ن کو چا ہییے کہ وہ اپنے گر بیان میں منہ ڈال کر دیکھے کہ کس قدر گناہوں میں وہ مبتلا تھا اور ان کی سزا کس قدر اس کو ملنے والی تھی ۔جو اللہ تعالیٰ نے محض اپنے فضل سے معاف کر دی۔ پس تم نے جو اب تو بہ کی ہے چا ہیئے کہ تم اس تو بہ کی حقیقت سے واقف ہو کر ان تمام گناہوں سے بچو جن میں تم مبتلا تھے اور جن سے بچنے کا تم نے اقرار کیا ہے ہر ایک گناہ خواہ وہ زبان کا ہو یا آنکھ یا کان کا غرض ہر اعضاء کے جدا جدا گناہ ہیں ان سے بچتے رہو کیو نکہ ایک زہر ہے جو انسان کو ہلا ک کر دیتی ہے گناہ کی زہر وقتاًفوقتاً جمع ہو تی رہتی ہے اور آخر اس مقدار اور حد تک پہنچ جاتی ہے جہاں انسان ہلاک ہو جاتا ہے پس بیعت کا پہلا فایدہ تو یہ ہے کہ یہ گناہ کے زہر کے لیے تر یاق ہے ۔اس کے اثر سے محفوظ رکھتی ہے اور گناہوں پر ایک خطِ نسخ پھیر دیتی ہے ۔ دوسرا فائدہ اس توبہ سے یہ ہے کہ اس توبہ میں ایک قوت واستحکام ہو تا ہے جو مامور من اللہ کے ہاتھ پر سچے دل سے کی جاتی ہے ۔انسان جب خود توبہ کرتا ہے تو وہ اکثر ٹوٹ جاتی ہے بار بار توبہ کرتا اور بار بار توڑتا ہے مگر مامور من اللہ کے ہاتھ پر جو توبہ کی جاتی ہے جب وہ سچے دل سے کریگا تو چونکہ وہ اللہ تعالیٰ کے ارادہ کے موافق ہو گی وہ خدا خود اسے قوت دیگا اور آسمان سے ایک طاقت ایسی دی جاوے گی جس سے وہ اس پر قائم رہ سکے گا اپنی توبہ اور مامور کے ہاتھ پر توبہ کرنے میں یہی فر ق ہے کہ پہلی کمزور ہو تی ہے دوسری مستحکم ۔کیونکہ اسکے