یہ نہ ہو کہ بجائے ثواب کے عذاب ہو عیسا ئیوں کو بھی اس امر کی ضرورت پیش آئی ہے اور بعض دفعہ پہلی بیوی کو زہر دیکر دوسری کی تلاش سے اس کا ثبوت دیا ہے یہ تقویٰ کی عجب راہ ہے مگر بشرطیکہ انصاف ہو اور پہلی نگہداشت میں کمی نہ ہو ۔ (البدؔرجلد ۳ نمبر ۷ صفحہ۱۱ مورخہ۱۶؍فروری۱۹۰۴ئ)
۲۴ ستمبر ۱۹۰۳ء
روحانیت اور پاکیز گی کی ضرورت
آپ نے ایک ذکرپر فرمایا کہ:۔
کو ئی دنیا کا کاروبار چھوڑ کر ہمارے پاس بیٹھے تو ایک دریا پیشگوئیوں کا بہتا ہوا دیکھے جیسے کہ کل قلم والی پیشگو ئی پوری ہو ئی ہے ۔
روحانیت اور پا کیز گی کے بغیر کو ئی مذہب چل نہیں سکتا قرآن شریف نے بتلا یا ہے کہ آنحضرتﷺ کی بعثت سے پیشتر دنیا کی کیا حالت تھی ۔
یا کلون کما تا کل الا نعا م (محمد:۱۳)
پھر جب انہی لوگوں نے اسلام قبول کیا تو فرماتا ہے
یبیلتون لربھم سجد اوقیاما (الفقادن:۶۵)
جب تک آسمان سے تریاق نہ ملے تو دل درست نہیں کرتا انسان آگے قدم رکھتا ہے مگر وہ پیچھے پڑتا ہے قدسی صفات اور فطرت والا انسان ہو تو وہ مذہب ہو تو وہ مذہب چل سکتا ہے اس کے بغیر کو ئی مذہب تر قی کر سکتا اور اگر کرتا بھی ہے تو پھر قائم نہیں رہ سکتا ۔ (البدؔرجلد ۲ نمبر ۳۷ صفحہ۲۹۰ مورخہ۲؍اکتوبر ۱۹۰۳ئ)
۲۹ستمبر ۱۹۰۳ء
دربار شام
بیعت کی غرض
بیعت لینے کے بعد حضرت حجتہ اللہ مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ السلام نے مبدرجہ ذیل تقریر فرما ئی :۔
ہر ایک شخص جو میرے ہاتھ پر بیعت کرتا ہے اس کو سمجھ لینا چا ہیئے کہ اس کی بیعت کی کیا غرض ہے ؟
کیا وہ دنیا کے لیے بیعت کرتا ہے یا اللہ تعا لیٰ کی رضا کے لیے بہت سے ایسے بد قسمت انسان ہوتے ہیںکہ ان کی بیعت کی غایت اور مقصود صرف دنیا ہو تی ہے ۔ورنہ بیعت سے ان کے اندر کو ئی تبدیلی پیدا نہیں ہو تی اور وہ حقیقی یقین اور معر فت کانور جو حقیقی بیعت کے نتا ئج اور ثمرات ہیں ان میں پیدا نہیں ہو تا