ان کو ایسا مستانہ بنا دیا تھا کہ دین کو ہر ایک شئے پر مقوم کیا ہوا تھا۔
الا یکونو امومنین(الشعر آء :۴)
کی تفسیر میں ایک نے لکھا ہے کہ آنحضرتﷺ کو خیال پیدا ہو گا کہ مجھ میں شاید وہ کا مل کشش نہیں ہے ور نہ ابو جہل راہ راست پر آجا تا پھر وہ خود ہی اس کا جواب دیتا ہے کہ آپ میں کشش تو کا ملِ تھی لیکن بعض قطر تیں ہی ایسی ہو جاتی ہیں کہ وہ اس قابل نہیں رتہں کہ نور کو قبول کریں اس لیے ایسے ایسے لوگوں کا محروم رہنا ہی اچھا ہو تا ہے ۔
دنیا اور ما فیہا پر دین کو لینا بغیر کشش الہیٰ کے پیدا نہیں ہو سکتا لوگوں میں یہ کشش نہیں ہو تی وہ ذرا سے بتلا سے تبدیل مذہب کر لیتے ہیں اور حکومت کے دبااؤ سے فوراً ہاں میں ہاں ملا نے لگ جا تے ہیں مسلمہ کذاب کے ساتھ ایک لا کھ تک ہو گئے تھے مگر طو نکہ اس میں کشش نہ تھی اس لیے آخر کار سب کے سب فنا ہو گئے ۔غرضیکہ کسی منجانب اللہ ہو نے کی دلیل یہی ہے کہ اس کو شش دی جا وے اور یہی بڑا معجزاہ ہے جوکہ لکھو کھا انسانوں کو اس کا گرویدہ اور جاں نثا بنا دتی ہے کسی ایک کو اپنا گرویدہ کر نا محال ہو تا ہے کو ئی کر کے دیکھے تو حال معلوم ہو سنیکڑوں روپے خرچ ہو جا تے ہیں مگر آخر کار دلشکنی ہی ہو تی ہے چہ جا ئکہ ایک عالم کو اپنا گرویدہ کر لیا جاوے یہ بغیر اس کشش کے حاصل نہیں ہو تا جو خدا سے عطا ہو بادشاہوں کے رعب اور دھمکیاں اور ایک دنیا بھر کا اس کے مقابلہ پر آجا تا ہے یہ سب اس کشش کے گروید وں کو تذبذب میں نہیں پڑنے دیتیں۔
ابھی تک ان آریوں کو پتہ ہی نہیں ہے کہ سچا تقویی کیا شئے ہے یہ اس وقت پتہ لگتا ہے کہ جب اول وہ اپنی بیماری کو سمجھیں جب تک ایک انسان اپنے آپ کو بیار نہیں خیال کرتا تو وہ علاج کیا کروا ے گا تز کیئہ نفس ایک ایسی شئے ہے کہ خود بخود نہیں ہو سکتا اس لیے خدا تعالیٰ فرماتا ہے ۔
فلا تز کو اانفسکم ھوا علم بمن اتقیٰ(النجم :۳۳)
کہ تم یہ خیال مہ کرو کہ ہم اپنے نفس یا عقل کے ذریعہ سے خود بخوف مزکی بن جا وینگے ۔
یہ با ت غلط ہے وہ خوب جا نتا ہے کہ کون متقی ہے جہالت ایک ایسی زہر ہے کہ جیسے انسان چنگا بھلا پھرتا ہوا فوراً ہیضہ وغیرہ سے ہلاک ہو جاتا ہے اور اس سے پیشتر گمان بھی نہیں ہو تا کہ میں مر جاؤں گا ایسے ہی جہالت ہلا ک کر ستی ہے اس کا علاج بلا انبیاء علیہم السلام کے نہیں ہو سکتا ان کی صبحت میں رہنے سے انسان کے اندر وہ قوت پیدا ہو تی ہے کہ جس سے اسے اپنے مرض کا پتہ لگتا ہے ورنہ خشک لفاظی اور چرب زبانی سے انسان کو یہ بات حاصل نہیں ہو سکتی صرف یہ کہنا کہ ہم نے زنا نہیں کیا چوری نہیں کی اس سے تزکیئہ نفس نہیں پا یا جاتا اور نہ اس کا نام سچی پا کیز گی ہے یہ ایک ایسی شئے ہے کہ اس پر عمل کر نا تو درکنا ر سمجھنا ہی مشکل ہے جسے خدا تعالیٰ چا ہتا ہے عطا کرتا ہے یہ تو ایک قسم کی موت ہے جو انسان کو اپنے نفس پروا ر د کر نی پڑتی