پھرچو نکہ بیماری وبائی کا بھی خیال تھا اس کا علاج خدا تعالیی نے یہ بتلا یا کہ اسکے ان ناموں کا ورد کیا جاوے
یا حفیظ۔ یا عزیز ۔ یا رفیق
رفیق خدا تعالیٰ کا نیانام ہے جو کہ اس سے پیشتر اسماء باری تعالیٰ میں کبھی نہیں آیا ۱؎
(البدؔرجلد ۲ نمبر ۳۵ صفحہ۲۸۰ مورخہ۱۱۸؍ستمبر۱۹۰۳ئ)
۱۴؍ستمبر ۱۹۰۳ء
ضرورت کیلئے تصویر کا جواز
ایک احمدی صاحب نے سوال کیا کہ گاؤں کے لوگ اس لیے تنگ کرتے ہیں کہ آپ نے تصویر کھنچوائی ہے اسکا ہم کیا جواب دیویں ؟
فرمایا کہ:۔
انسان جب دنیاوی ضرورتوں کے لیے ہر وقت پیسہ روپیہ وغیرہ میں رکھتا ہے جن پر تصویر وغیرہ بنی ہو ئی ہو تی ہے تو پھر دینی ضرورت کے لیے تصویر کا استعمال کیوں روانہیں ہو سکتا ان لوگوں کی مثال
لم تقولون مالا تفعلون (الصف:۳)
کی ہے کہ خود تو ایک فعل کرتے ہیں اور دوسروں کو اسے معیوب بتلا تے ہیں اگر ان لوگوں کے نزدیک تصویر حرام ہیتو ان کو چا ہیئے کہ کل مال وزر باہر نکال کر پھینک دیںپھر ہم پر اعتراض کر یں اور یہ ملاں لوگ جو بڑھ بڑ ھکر با تیں کرتے ہیں ان کی یہ حالت ہے کہ ایک پیسہ کو تو وہ ہاتھ سے چھوڑ نہیں سکتے۔
(البدؔرجلد ۲ نمبر ۳۶ صفحہ۲۸۱ مورخہ۲۵؍ستمبر۱۹۰۳ئ)
۱۷؍ستمبر ۱۹۰۳ء
جذب اور کشش سچے مذہب کی علامت ہیں
بعض احباب کی طرف سے یہ دوخواست ہو ئی کہ آریوں کی طرف متوجہ ہو نا چا ہیئے کہ یہ بہت بڑے جا تے ہیں ۔فرمایا کہ:۔