ہمارا مذہب یہ ہے کہ دنیا میں جو عذاب ملتے ہیں وہ ہمیشہ شوخیوں اور شرارتوں سے ملتے ہیں انبیاء اور مامورین کے جس قدر منکر گذرے ہیں ان پر عذاب اسی وقت نازل ہو ا جبکہ ان کی شرارت اور شوخی حد سے تجاوز کر گئی اگر وہ لوگ حد سے تجاوز نہ کرتے تو اصل گھر عذاب کا آخرت ہے ور نہ اس طرح سے دیکھ لو کہ ہزاروں کافر ہیں جو کہ اپنا کاروبار کر تے ہیں اور پھر کفر پر ہی مرتے ہیں مگر دنیا میں کو ئی عذاب ان کو نہیں ملتا اس کی وجہ یہی ہے کہ مامورین اللہ کے مقابلہ پر آکر شوخی اور شرارت میں حد سے نہیں بڑھتے مگر اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ آخرت میں بھی ان کو عذاب ہو گا دنیاوی عذاب کے لیے ضروری ہے کہ انسان تکذیب ِمرسل ،استہزاء اور ٹھٹھے میں اور ایذاء میں حد سے بڑھے اور خدا کی نظر میں ان کا فساد ،فسق اور ظلم اور آزار نہایت درجہ پر پہنچ گیا ہو ۔ اگر ایک کافر مسکین صورت رہے گا اور اس کا خوف دامنگیر ہو گا تو گو وہ اپنی ضلالت کی وجہ سے جہنم کے لا ئق ہے مگر عذاب نیوی اس پر نازل نہ ہو گا ۔ اگر کفار مکہ چپ چا پ اور اخلاق سے آنحضرتﷺ سے پیش آتے تو یہ عذاب ان کو جو ملا ہر گز نہ ملتا ایک جگہ خدا تعالیٰ فرماتا ہے ففسقو افیھا فحق علیھا القول فدمر نھا تد میر اً(بنی اسرا ئیل:۱۷) کہ جب کسی بستی کے ہلاک کر نے کا ارادہ الہیٰ ہو تا ہے تو اس وقت ضرور وہاں کے لوگ بد کا یوں میں حد اعتدال سے نکل جاتے ہیں ۔ پھر ایک اور جگہ ہے وما کنا مھلکی القری الا واھلھا ظالمون(المصص:۶۰) جس سے ثابت ہے کہ کو ئی بستی نہیں ہلا ک ہو تی مگر اس حالت میں کہ جب اس کے اہل ظلم پر کمر بستہ ہوں فسق کے معنے حد سے تجاوز کر نے کے ہیں۔ اب دیکھو ہزاروں ہندو ہیں مگر ما نتے نہیں انکار کر تے ہیں پھر کیا وجہ ہے کہ سب کو چھوڑ کر لیکھرام کے پیٹ میں چھری چلی ؟اس کی وجہ اس کی زبان تھی کہ جب اس نے اسے بیبا د کا نہ کھو لا اور آنحضرتﷺ کو سب وشتم کر نے میں حد سے بڑھ گیا اور ایک مد مقابل بن کر خود نشان طلب کیا تو وہی اس کی زبان چھری بن کر اس کی جان کی دشمن ہو گئی غرضیکہ اصل گھر عذاب کا آخرت ہے اور دنیا میں عذاب شوخی ،شرارت میں حد سے تجارز کر نے سے آتا ہے ہندواؤں میں بھی یہ بات مشہور ہے کہ پر پیشر اور رعت کا بیر ( دشمنی ) ہے عت کے معنے حد درجہ تک ایک بات کو پہنچا دینا (عت کا لفظ عربی ہے جیسے قرآن شریف میں عتو ہے )۔ تفاوت وطبقات ِعذاب مَیں اس بات کا قائل نہیں ہو ں کہ عذاب یکساں سب کو ہو کفر سب ایک جیسے نہیں ہو تے تو عذاب کیسے ایک جیسا سب کو ہو بعض کا فر ایسے ہیں کہ ایسے پہاڑوں میں رہتے ہیں کہ وہاں اب تک رسالت کی خبر نہیں اسلام کی خبر نہیں تو ان کا کفر