احتیاطی نماز اہل اسلام میں سے بعض ایسے بھو لے بھا لے بھی ہیںکہ جمعہ کے دن ایک تو جمعہ کی نماز پڑھتے ہیں تو پھر اس کے بعد اس احتیار سے کہ شاید جمعہ ادا نی ہوا ہو ۔ظہر کی نماز بھی پوری ادا کرتے ہیں اس کا نام انہوں نے احتیاطی رکھا ہوا ہے اس کے ذکر پر حضرت اقدس نے فرما یا کہ یہ غلطی ہے اور اس طرح سے کو ئی نماز بھی نہیں ہو تی کیو نکہ نیت میں اس امر کا یقین ہو نا ضروری ہے کہ مَیں فلاں نماز ادا کر تا ہوں اور جب نیت میں شک ہوا تو پھر وہ نماز کیا ہو ئی ؟ (البدؔرجلد ۲ نمبر ۳۴ صفحہ۶۵ ۲۔۲۶۶ مورخہ ۱۱؍ستمبر۱۹۰۳؁ئ) یکم ستمبر ۱۹۰۳؁ء دربار شام ایک رؤیا فرمایا کہ:۔ آج خواب میں ایک فقرہ منہ سے یہ نکلا فیئر مین fair man خدا شنا سی کا واحد ذریعہ فرما یا :۔ خدا کی شناخت کے واسطے سوائے خدا کے کلام کے اور کو ئی ذریعہ نہیں ہے ملا خط مخلوقات سے انسان کو یہ معرفت حاصل نہیں ہو سکتی اس سے صرف ضرورت ثابت ہو تی ہے پس ایک شئی کی نسبت ضوروت کا ثابت ہو نا اور امر ہے اور واقعی طور پر اس کا موجود ہو نا اور امر ہے یہی وجہ ہے کہ حکما ء متقدمین سے جو لوگ محض قیاسی دلائل کے پا بند رہے ہیں اور ان کی نظر صرف مخلوقات پر رہی انہوں نے اس میں بہت بڑی بڑی غلطیاں کی ہیں اور کامل یقین ان کوجو ہے کے مرتبہ تک پہنچا تا ہے نصیب نہ ہوا یہ صرف خدا کا کلام ہے جو یقین کے اعلیٰ مراتب تک پہنشا تا ہے خدا کا کلام تو ایک طور سے خدا کا دیدا ر ہے اور یہ شعر اس پر خوب صادق آتا ہے ؎ نہ تنہا عشق از دیدار خیز د ؛ بسا کیں دو لت از گفتار خیز د خدا تعالیٰ قادر ہے کہ جس شئے میں چا ہے طاقت بھردیوے پس اپنے دیدار والی طاقت اس نے اپنی گفتار میں بھردی ہے انبیاء نے اسی گفتار پر ہی تو اپنی جا نیں دیدی ہیںکیا کو ئی مجازی عاشق اس طرح