کے دلوں پر اس سے کیا صد مہ گذرتا ہے اس کو ہر ایک محسوس نہیں کر سکتا اسی لیے خدا تعالیٰ نے ایسی شہرت دینے والوں کے لیے اسی۸۰ درے سزا مقرر فر مائی ہے ۔ اس مضمون کے متعلق حضرت اقدس نے فرما یا کہ خدا تعالیٰ نے اپنی پا ک کلام میں شہرت د ینے والوں کے لیے بشرطیکہ وہ اسے ثابت نہ کر سکیں اسی۸۰ درے سزا رکھی ہے اس لیے کہ جو شہرت دیتا ہے اسے اس مقدمہ میں مدعی گردانا گیا ہے اور اسی سے چار گواہ طلب کئے گئے ہیں کہ اگر وہ سچا ہے تو اپنے علاوہ چا ر گواہ رویت کے لاوے یہ غلطی ہے کہ ایسے شخص کو بھی گواہوں میں شمار کیا جاوے ۔ (البدؔرجلد ۲ نمبر ۳۲ صفحہ۲۵۹ مورخہ ۴؍ستمبر۱۹۰۳؁ئ) ۲۴؍ اگست ۱۹۰۳؁ء ایک رؤیا حضرت اقدس علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک رؤیا بوقت عصر سنا یا ۔ فرمایا کہ :۔ مَیں نے دیکھا کہ ایک بلی ہے اور گو یا کہ ایک کبوتر ہمارے پاس ہے وہ اس پر حملہ کر تی ہے ۔بار بار ہٹا نے سے باز نہیں آتی تو آخر مَیں نے اس کا ناک کا ٹ دیا ہے اور خون بہہ رہا ہے پھر بھی با ز نہ آئی تو مَیں نے اسے گردن سے پکڑکے اس کا منہ زمین سے رگڑنا شروع کیا بار بار رگڑ تا تھاس لیکن پھر بھی سر اٹھا تی جا تی تھی تو آخر مَیں نے کہا کہ آؤ اسے پھا نسی دیدیں ۔ (البدؔرجلد ۲ نمبر ۳۴ صفحہ۶۵ ۲ مورخہ ۱۱؍ستمبر۱۹۰۳؁ئ) ۳۱اگست ۱۹۰۳؁ء مسلمانوں کے ادبار کا باعث اہل اسلام کے ادبار اور ان کے تنزل کا ذکر ہوا فرمایا کہ:۔ اس کا باعث خود ان کی شامت ِاعمال ہے کیو نکہ زمین پر کچھ نہیںہو تا جبکہ اول آسمان پر نہ ہو ئے اکثر لوگ حکام کی سختی اور ظلم کی شکایت کیا کرتے ہیں لیکن اگر یہ لوگ خود ظالم نہ ہوں تو خدا تعالیی ان پر کبھی ظالم حاکم مسلط نہ کرے زمانہ کی حالت کا اندازہ اسی سے کر لو کہ ہم ہزاروں روپے دینے کو تیا ر ہیں کہ کو ئی جماعت آکر یہاں رہے ہم ان کی مہمان نوازی کر یں اور حتیٰ الوسع ہر ایک قسدم کا آرام دیں اور وہ شر افت سے اپنے شکو ک وشبہات پیش کر یں اور قرآن اور احادیث ِصحیحہ سے ہماری با تیں سنیں اور پھر سمجھیں اور غور کریں کہ جو کچھ عقیدہ اسلام کے متعلق انہوں نے اختیار کیا ہوا ہے اس کے کس قدر فساد اور ہتک اسلام کی اور