اس میں الف لام کی رعایت نہ کی جاوے تو پھر اس سے بہت سے فساد لا زم آویں گے اور انسان ضلالت میں پڑے گا یہ امرضروری ہے کہ وحی شریعت اور وحی غیر شر یعت میں فرق کیا جاوے بلکہ اس امتیاز میں تو جانوروں کو جو وحی ہو تی ہے اسکو بھی مد نظر رکھا جاوے بھلاپ بتلاویں کہ قرآن شریف میں جو یہ لکھا ہے وادحی ربک الی النحل (النحل :۶۹) تو اب آپ کے نزدیک شہد کی مکھی کی وحی ختم ہو چکی ہے یا جاری ہے ؟ سائل :۔ جاری ہے ۔ حضرت اقدس :۔ جن مکھی کی وحی اب تک منقطع نہیں ہو ئی تو انسانوں پتر جو وحی ہو تی ہے وہ کیسے منقطع ہو سکتی ہے ہاں یہ فرق ہے کہ ال کی خصوصیت سے اس وحی شریعت کا الگ کیا جاوے ورنہ یوں تو ہمیشہ ایسے لوگ اسلام میں ہو تے رہے ہیں اور ہو تے رہیں گے جن پر وحی کا نزول ہو ۔حضرت مجددالف ثانی اور شاہ ولی اللہ صاحب بھی اس وحی کے قائل ہیں ۔ اور اگر اس سے یہ مانا جاوے کہ ہر ایک قسم کی وحی منقطع ہو گئی ہے تو یہ لا زم آتا ہے کہ امور شہودہ اور محسوسہ سے انکار کیا جاوے اب جیسے کہ ہمارا اپنا مشاہدہ ہے کہ خدا کی وحی نازل ہو تی ہے پس اگر ایسے شہود اور احسا س کے بعد کو ئی حدیث اس کے مخالف ہو تو کہا جا ویگا کہ اس میں غلو ہے خود غزنوی والوں نے ایک کتاب حال میں لکھی ہے جس میں عبداللہ غزنوی کے الہامات درج کئے ہیں ۔ پھر جس حال میں یہ سلسلہ مو سوی سلسلہ کے قدم بقدم ہے اور موسوی سلسلہ میں برابت جاری رہی تھی حتیٰ کہ عورتوں کو وحی ہو تی رہی تو کیا وجہ کہ محمدی سلسلہ میں وہ بند ہوکیا اس امت کے ا خیار ان عورتوں سے بھی گئے گذ رے ہو ئے ؟ علاوہ اس کے اگر وحی نہ ہو تو پھر اھدنا الصراط المستقم صراط الذین انعمت علیھم (الفاتحۃ:۶۔۷) کے کیا معنے ہوں گے کیا یہاں انعام سے مراد گو شت پلاؤ وغیرہ ہے یا خلعتِ نبوت اور مکا لمہ الہیٰ وغیرہ جو کہ انبیاء کو عطا ہو تا رہا غرضیکہ معرفت تما م انبیاء کو سوائے وحی کے حاصل نہیں ہو سکتی جس غرض کے لیے انسان اسلام قبول کرتا ہے اس کا مغر یہی ہے کہ اسکے اتباع سے وحی ملے اور پھر اگر وحی منقطع ہو ئی مانی بھی جاوے تو آنحضرت ﷺ کی وحی منقطع ہو ئی نہ اس کے فلاں اور آثار بھی منقطع ہو ئے ۔ مسئلہ بروز سائل :، بروز کسے کہتے ہیں؟ حضرت اقدس :۔ جیسے شیشہ میں انسان کی شکل نظر آتی ہے حالا نکہ وہ شکل بذات ِخود