توریت میں جس قتل کا ذکر ہے تو اس سے نا مرادی اور نا مامی کی موت مردا ہے حضرت یحیٰ اور حضرت عیسیٰ علیہ السلام قریبی رشتہ دار تھے یحییٰ ؑ کے قتل ہو جانے سے دین پر کو ئی تبا ہی آسکتی تھی اگر یحییٰؑ قتل ہو ئے تو پھر عیسیٰؑ ان کی جگہ گھڑے ہو گئے لیکن یہ بھی یادر کھنا چا ہیئے۔ کہ یحییٰؑ کو ئی صاحب شریعت نہ تھے ہو سکتا ہے کہ یہ وعدہ تو ریت کا صاحب شریعت کے لیے ہو۔ انگریزوں اور سکھوں کی لڑائیاںہو تی رہیں سکھ لوگ ان میں اکثر انگریزوں کوقتل کر تے رہے لیکن اب جس حالت میں کہ انگریز فاتح اور بادشاہ ہیں تو کیا سکھ یہ فخرکر سکتے ہیں کہ ہم نے اس قدر انگریزوں کو قتل کیا یہ کو ئی جگہ فخر کی نہیں ہے کیو نکہ آخر میدان انگریزوں کے ہاتھ رہا زند ہ وہ ہو تا ہے جس کا سکہ چلے آنحضرتﷺ کے بعد اب کروڑ ہا مسلمان موجو د ہیں اور ابو جہل کے بعد اس کا تا بع کو ئی نہیں بلکہ اس کی اوکاد ہو نے کاس کو ئی نام نہیں لیتا تو کیا اب ابو جہل کی طرف سے کو ئی یہ بات کہہ سکتا ہے کہ ہم نے مسلمانوں کو فلاں جگہ شکست دی تھی یا کو ئی بیوقوف اگر یہ کہے کہ ہوا کیا آنحضرتﷺ بھی مر گئے اور ابو جہل بھی تو یہ اس کی غلطی ہے مقابلہ تو کا میا بی سے ہو تا ہے ابو جہل کا نام ندارد اور آنحضرتﷺ کا تو تخت موجود ہے انبیاء کو خدا ذلیل نہیں کرتا انبیاء کی قوتِ ایمانی یہ ہے کہ خدفا کی راہ میں جان دے دینا وہ اپنی سعادت جا نیں اگر کو ئی موسیٰ علیہ السلام کے قصہ پر نظر ڈال کر اس سے یہ نتیجہ نکا لے کہ وہ ڈرتے تھے تو یہ بالکل فضول امر ہے اور امر ڈر سے یہ مراد ہر گز نہیں کہ ان کو جان کی فکر تھی بلکہ ان کو یہ خیال تھا کہ منصب ِرسالت کی بجاآوری میں کہیں اس کا اثر برا نہ پڑے۔ میرے نزدیک مومن وہی ہے کہ اگر اس نے خدا تعالیٰ کی راہ میں جان نہ دی ہو تو وہ روحانی طور پر ضرور جان دے کر شہید ہو چکا ہو پس اگر موسیٰؑ کو جان کا ہی خوف تھا تواس سے (اگر یہ افواہ سچ ہے کہ شہزادہ پیر مولوی عبداللطیف خاں صاحب سنگسار کر کے مارے گئے ہیں ) عبداللطیف صاحب ہی اچھے رہے جنہوں نے ایمان نہ دیا اور جان دیدی پس ہمارا تو یہی خیال ہے کہ موسیٰ علیہ السلام کو اس یہ خیال ہوا کہ ایسا نہ ہو کہ مَیں نا مراد مارا جاؤں اور فرض ِرسالت ادا نہ ہو۔ اگر کسی بات میں شر ہو تو یہ عادت اللہ نہیں کہ وہ مجھے اطلاع نہ دے۔ مہمان نوازی آپ نے منتظمان باورچی خانہ کو تا کید کی کہ آج کل موسم بھی خراب ہے اور جس قدر لوگ آئے ہو ئے ہیں یہ سب مہمان ہیں اور مہمان کا اکرام کر نا چاہیئے اس لیے کھا نے وغیرہ کا انتظام عومدہ ہو اگر کو ئی دودھ ما نگے دودھ دو چا ئے