یا اسے ذلت دامنگیر ہو تی ہے کیو نکہ روز بروز کیسے افتراء کر سکتا ہے افتراء جیسی کچی شئے کو ئی نہیں ہو تی حتیٰ کہ شیشہ بھی اتنا کچا نہیں ہو تاس جس قدر افتراء ہو تا ہے اور چو نکہ مفتری کے بیان میں قوت ِجاذبہ نہیں ہو تی ۔اس لیے اس کی بد بو بہت جلد پھیل جا تی ہے ۔ قتل ِانبیاء کا مسئلہ ایک صاحب نے سوال کیا کہ توریت میں جھوٹے نبی کی یہ علا مت لکھی ہے کہ وپ قتل کیا جاوے اور ادھر ایسی عبادتیں بھی ہیں کہ جس سے معلوم ہو تا ہے کہ بعض نبی قتل ہو ئے تو پھر وہ علا مت کیسے صحیح ہو سکتی ہے ؟فرمایا :۔ راستباز کی یہی نشانی ہے کہ جس مطلب کے لیے خدا نے اسے پیدا کیا جب تک وہ پورا نہ ہو لے یا کم ازکم اس کے پورا ہو نے کی ایسی بنیا د نہ ڈال دے کہ اسے تنزل نہ ہو تب تک وہ نہ مرے مگر ایک لذاب سے یہ بات کام پورا کر چکے تو پھر خود مر جاوے یا کسی کے ہاتھ سے مارا جاوے تو کیا موت تو بہرحال آنی ہی ہے کسی صورت میں آگئی اس میں کیا حرج ہے اور کا میابی کی موت پر کسی بھی تعجب نہیں ہوا کرتا اور نہ دشمن کو خوشی ہو تی ہے قرآن شریف کے صریح الفاظ سے یہ بات معلوم نہیں ہو تی کہ خدا تعالیٰ نے قتل نبی حرام کیاہو بلکہ آنحضرتﷺ کی نسبت لکھا ہے افا ئن مات او قتل (ال عمران :۱۴۵) جس سے قتل ِابنیا ء کا جواز معلوم ہو تا ہے اس پر کو ئی رنج نہیں کرتا بلکہ خوشی کر تے ہیں اور جو خدا کے اہل ہو تے ہیں ان کا قتل تو ان کے لیے زندگی ہے کہ اپنے قائمقام ہزاروں چھوٹ جاتے ہیں ۔ آنحضرتﷺ کی آمد اس وقت ہو ئی کہ زمانہ ظھر الفساد فی البر وا لجبر(الزوم :۴۲) کا مصداق تھا اور گئے اس وقت جبکہ اذجا ء نصراللہ والفتح(النصر :۲) کی سند آپ کو مل گئی پس اگر آپؐ کو کا میابی نہ ہو تی لیکن آپ کسی کے ہاتھ سے قتل بھی نہ ہو ئے تو اس سے کیا فائدہ تھا؟ اور یہ کو نسا مقام فخر کا ہے ہاں جب ایک شخص سلطنت قائم کرتا ہے اور اپنے قائمقام مظفر ومنصور چھوڑتا ہے تو کیا پھر دشمن کی خوشی کا موجب ہو سکتا ہے ؟ بڑی سے بڑی ذلت یہ ہے کہ نا کا می اور نا مرادی کی موت آوے پس اگر آنحضرتﷺ اس کا میابی کی حالت میں قتل کئے جاتے تو اس سے آپ کی شان میں کیاحرف آسکتا تھا ؟ یہ بھی لکھتے ہیں کہ آنحضرتﷺ کو زہر دی گئی تھی آپ کی موت میں اس زہر کا بھی دخل تھا مگر ہم کہتے ہیں کہ جب آپ کی موت ایسی حالت میں ہو ئی کہ کا فر اس بات سے نا امید ہو گئے کہ ان کا دین پھر عود کر یگا تو ایسی حالت میں اگر آپ زہر یا قتل سے مرتے تو کو نسی قابل ِاعتراض بات تھی؟ دین تو تباہ نہیں ہو سکتا تھا غرضیکہ