ولکم فیھا ماتشھی انفشکم ۱ ؎ حضور علیہ السلام نماز اور فرما رہے تھے اور آپ کی طبیعت نا سا زتھی کہ نمازکے اندر طبیعت میں یہ خواہش پیدا ہو ئی کہ انگور ملیں تو وہ کھا ئے جا ئیں مگر چو نکہ نزدیک ودور ان کا ملنا محال تھا اس لیے ہو سکتا تھا کہ اس اثنا میں ایک صاحب جناب حکیم محمد حسین صاحب ساکن بلب گڈھ ضلع دہلی جو کہ حضرت اقفس کے مخلص خدا م سے ہیں قادیان سے واپس ہو کر حضرت اقدس کی خد مت میںحاضر ہو ئے اور انہوں نے ایک ٹوکر ی انگوروں اور دوسرے ثمرات مثل انار وغیرہ کے حضرت کی خدمت میں پیش کی اور بیان کیا کہ مجھے علم نہ تھا کہ حضورت بٹا لہ تشریف لا ئے ہیں مَیں قادیان چلا گیا وہاں معلوم ہو تو اسی وقت مَیں واپس ہوا اور یہ پھل حضور کے لیے ہیں۔ (البدؔرجلد ۲ نمبر ۳۲ صفحہ۲۵۰۔۵۱ ۲ مورخہ ۲۸؍اگست۱۹۰۳؁ئ) ۱۸؍ اگست ۱۹۰۳؁ء ایک رؤیا ء فجر کو اٹھ کر حضرت اقدس نے نماز جماعت ادا کی چو نکہ سفر کی تکان تھی۔۔۔۔ اس لیے آپ نے تھوڑی دیر آرام فر مایا اور پھر اٹھ کر فرش پر جلو ہ افروز ہو ئے اور یہ رؤیا بیان کی ۔ ایک خوان میرے آگے پیش ہوا ہے اس میں فا لودہ معلوم ہو تا ہے اور کچھ فیر نی بھی رکا بیوں میں ہے مَیں نے کہا کہ چمچہ لا ؤ تو کسی نے کہا کہ ہر ایک کھا نا عمدہ نہیں ہو تا سوائے فر نی اور فا لودہ کے۔ اس کے بعد آپ نے خدا کا کلام جو کہ آپ پر (نازل) ہوا سنا یا (پھر ) فرمایا کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے تسلی ہر ایک بات میں خدا تعالیی کا سلسلہ تسکین کا چلا آتا ہے جس سے ان لوگوں کا رد ہو تا ہے جو ان مقدموں پر اعتراض کر تے ہیں (یعنی ۲؎ اگر یہ مقدمات خدا تعالیٰ کی رضا مندی کا موجب اور دین کی تا ئید کا باعث نہ ہو تے تو پھر خدا تعالیٰ ان کے متعلق بشارت کیوں دیتا) فرمایا کہ:۔ بعض کو تازہ اندیش ہی اعتراض کرتے ہیں ورنہ ہم اگر مقدمہ باز ہو تے تو جس وقت ڈگلس صاحب نے کہا تھا