کے متعلق کچھ اور دریافت کرسکتے ہیں جس کا جواب حضرت صاحب دیں گے اور یہی سلسلہ چار دن تک رہے گا ۔اس سوال جواب کے شرائط یہ ہیں کہ ہر روز پانچ گھنٹہ اس پر خرچ ہوں گے یعنی ہر ایک فریق کے لیے اڑھائی گھنٹے اور جس کو ایک دن میں اڑھائی گھنٹے سے کم وقت ملنے کا موقعہ ملے وہ اتنا ہی وقت دوسرے دن لے سکیگا لیکن چوتھے دن کی شام کو بہر حال یہ امر ختم ہو گا سوائے اس کے کہ ان چار دنوں کے اندر کوئی فر یق کسی وجہ سے جو معمولی حوئج اور ضروریات کے علاوہ ہو پورا وقت نہ دے سکے تو اسکے لیے ضروری ہو گا کہ اس وقت کو چار دن کے بعد پورا کرے اور اگر چار دن کے اندر ہی مثلاً پہلے پہ دن حضرت صاحب فر ماویں کہ جو ہم نے کہنا تھا کہہ چکے اور ان زیادہ اور کچھ نہیں کہنا توگل محمد صاحب کو اختیار ہو گا کہ اسی وقت چلے جاویں ۔ گل محمد صاحب کی طرف سے صرف ایک ہی سوال پیش ہو گا خواہ وہ کتنا ہی بڑا ہو اور فر یقین کو اختیار نہ ہو گا کہ ایک دوسرے وقت میں کسی کی بات کو قطع کریں ۔ (دستخط حضرت میرزا غلام احمد صاحب) دوسرے کاغذ پر ہوئے ( گل محمد ) ۱۵ اگست ۱۹۰۳ ؁ء دربار شام لعنتِ خدا سے مراد فر مایا :۔ خدا کی نزدیک لعنت وہ نہیں ہوتی جو کہ عام لوگوں کے نزدیک ہو تی ہے بلکہ خدا کی لعنت سے مراد دنیا اور آخرت کی لعنت ہے (یعنی ہر)دو کی ذلّت ہے قر آن کس طر ح سے مصدِّق انجیل ہے ؟ فرما یا کہ:۔ قرآن شریف انجیل کی تصدیق قول سے نہیں کر تا بلکہ فعل سے کرتا ہے کیو نکہ جو حصہ انجیل کی تعلیم کا قرآن کے اندر شامل ہے اس پر قرآن نے عملدرآمد کرو کے دکھلا دیا ہے اور اسی لیے ہم اسی حصہ انجیل کی تصدیق کرسکتے ہیں جس کی قرآن کریم نے تصدیق کی ہے ہمیں کیا معلوم کہ باقی کا رطب ویابس کہاں سے آیا ہاں اس پر یہ اعتراض ہو سکتا ہے کہ پھر آیت ولیحکم اھل الا نجیل (المائداۃ:۴۸) میںجو لفظ انجیل عام ہے اس سے کیا مردا ہے وہاں یہ بیان نہیں ہے کہ انجیل کا وہ حصہ جس کا مصدق قرآن ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہاں الانجیل سے مراد اصل انجیل اور تورایت ہے جو