ہو تے ہیں ہر ایک کچھ نہ کچھ حصہ جنون کا ضرور رکھتا ہے جس قدر قویٰ ان کے ہو تے ہیں ان میں ضرور افراط تفریط ہو تی ہے اور اس سے جنون ہو تا ہے ۔
غضب اور جنون میں فرق یہ ہے کہ اگر سرسری دورہ ہو تو اسے غضب کہتے ہیں اور اگر وہ مستقل استحکام پکڑ جاوے تواس کا نام جنون ہے ۔
جنت میں چا ندی کا ذکر کیوں ہیَ
چا ندی پر ذکر ہوا فرمایا کہ:۔
چا ندی کے بیچ میں ایک جو ہر محبت ہے اس لیے یہ زیادہ مرغوب ہو تی ہے اکثر لوگ اعتراض کیا کرتے ہیں کہ جنت کی نعماء میں چا ندی کے برتنوں کا ذکر ہے حالا نکہ اس سے بیش قمیت سانا ہے وہ لوگ اس راز کو جو کہ خدا تعالیٰ نے چا ندی میں رکھا ہے نہیں سمجھے جنت میں چو نکہ غل اور کینہ اور بعض وغیرہ نہیں ہو گا اور آپس میں محبت ہو گی اور چو نکہ چا ندی میں جو ہر محبت ہے اس ل کے لیے اس نسبت با طنی سے جنت میں اس کو پسند کیا گیا ہے اس میں جو ہر محبت کا ثبوت یہ ہے کہ اگر طرفین میں لڑائی ہو تو چا ندی دے دینے سئے صلح ہو جاتی ہے اور کدورت دور ہو تی ہے۔ کسی کی نظر عنایت حاصل کر نی ہو تو چا ندی پیش کی جا تی ہے ۔علوم یا تو قیاس سے معلوم ہو تے ہیں۔ اور یا تجربہ سے چا ندی کے اس اثر کا پتہ تجربہ سے لگتا ہے۔ خواب میں اگر ایک کسی مسلمان کو چا ندی دے تو اس کی تعبیر یہ ہو تی ہے کہ اسے اسلام سے محبت ہے اور وہ مسلمان ہو جاوے گا ۔
کثرت شراب خوری کا نتیجہ
اکثر دفعہ جب تک ایک شئے کی کثرت نہ ہو تو اس کے خواص کا پتہ نہیں لگتا شراب کی کثرت جو اس وقت یورپ وغیرہ میں ہے اگر یہ نہ ہو تی تو اس بدنتائج کیسے ظاہر ہو تے جس سے اس وقت دنیا پنا ہ پکڑنا چا ہتی ہے اور اس کی کثرت سے اسلام اور پیغمبرِاسلام کی خوبی کھلتی ہے جنہوں نے ایسی شئے کو منع اور حرام فرمایا ۔
اگر مسیح کی مقصود بالذات زمین ہی تھی کہ آخر عمر میں انہوںنے زمین پر ہی آنا تھا تو پھر اتنا عرصہ آسمان پر رہنے سے کیا فائدہ؟ یہی وقت زمین پر بسر کرتے کہ لوگوں کو ان کی ذات اور تعلیم سے فائدہ ہو تا اور قوم گمراہی سے بچی رہتی ۔
(البدؔرجلد ۲ نمبر ۳۱ صفحہ۴۱ ۲ مورخہ ۱ ۲؍اگست۱۹۰۳ئ)