۳؍ اگست ۱۹۰۳ء
دربارِ شام
دعا کے اثر اور قبولیت کو تو جہ کیسا تھ تعلق ہیَ
امر یکہ سے جناب مفتی محمدصادق صاحب کے ذریعہ ایک ڈاکڑکی بیوی نے اپنے کسی عارضہ کے لیے دعا کی درخواست کی تھی آپ نے فرما یا کہ:۔
اس کو جواب میں لکھا جاوے کہ اس میں شک نہیں کہ دعااؤں کی قبولیت پر ہمارا ایمان ہے اور اللہ تعالیی نے ان کے قبول کر نے کا وعدہ بھی فرما یا ہے مگر دعاؤں کے اثر اور قبولیت کو تو جہ کے ساتھ بہت بڑا تعلق ہے اور پھر حقوق کے لحاظ سے دعا کے لیے جو ش پیدا ہو تا ہے اور خدا تعالیٰ کا حق سب پر غالب ہے اس وقت دنیا میں شرک پھیلا ہوا ہے اور ایک عاجز انسان کو اللہ تعالیٰ کے ساتھ شریک کیا جاتا ہے اس لیے فطرتی طور پر ہماری تو جہ اس طرف غالب ہو رہی ہے کہ دنیا کو اس شرک سے نجات ملے اور اللہ تعالیی کی عظمت قائم ہو اس کے سوا دوسری طرف ہم تو جہ کر ہی نہیں سکتے اور یہ بات ہمارے مقاصد اور کام سے دور ہے کہ اس کو چھوڑ کر دوسری طرف تو جہ کر یں بلکہ اس میں ایک قسم کی معصیت کا خطرہ ہو تا ہے ۔
ہاں یہ میرا ایمان ہے کہ بیماروں یا مصیبت زدوں کے لیے توجہ کی جاوے تو اس کا اثر ضرور ہو تا ہے بلکہ ایک وقت یہ امر بطور نشان کے بھی مخالفوں کے سامنے پیش کیا گیا اور کو ئی مقابلہ میں نہ آیا اس وقت میری ساری تو جہ اسی ایک امر کی طرف ہو رہی ہے کہ یہ مخلوق پر ستی دور ہو اور صلیب ٹوٹ جاوے اس لیے ہر کام کی طرف اس وقت میں تو جہ نہیں کر سکتا خدا تعالیٰ نے مجھے اسی طرف متوجہ کر دیا ہے کہ یہ شرک جو پھیلا ہوا ہے اور حضرت عیسیٰؑ کو خدا بنا یا گیا ہے اس کو نیست ونا بود کر دیا جاوے یہ جو ش سمند ر کی طرح میرے دل میں ہے اسی لیے ڈوئی کو لکھا ہے کہ وہ مقابلہ کے لیے نکلے پس تم صبر کرو جب تک کہ ایک دعا کا فیصلہ ہو جاوے اس کے بعد ایسی امور کی طرف بھی اللہ تعالیٰ چا ہے تو تو جہ ہو سکتی ہے لیکن دعا کر انے والے کے لیے یہ بھی ضرور ہے کہ وہ اپنی اصلاح کر ے اور اللہ تعالیٰ سے صلح کر ے اپنے گناہوں سے تو جہ کر ے پس جہا نتک ممکن ہو تم اپنے آپ کو درست کرو اور یہ یقیناً سمجھ لو کہ انسان کا ستا ر کبھی فائدہ نہیں اٹھا سکتا ۔
مسیحؑ کی زندگی کے حالا ت پڑھو تو صاف معلوم ہو گا کہ وہ خدا نہیں ہے اس کو اپنی زندگی میں کسقدر کو فتیں اور کلفتیں اٹھانی پڑیں اور دعا کی عدم قبولیت کا کیسا برا نمونہ اس کی زند گی میں دکھا یا گیاہے حصوصاً با غ والی دعا جو ایسے اضطراب کی دعا ہے وہ بھی قبول نہ ہو ئی اور وہ پیا لہ ٹل نہ سکا پس ایسی حالت میں