گناہ سے نجات کیسے ہو؟
فر ما یا :۔
گناہ سے نجات محض خدا تعالیٰ کے فضل اور تصرف سے ملتی ہے جب وہ تصرف کرتا ہے اور دل میں وعظ پیدا ہو جاتا ہے تو پھر ایک نئی قوت انسان کو ملتی ہے جو اس کے دل کو گناہ سے نصرت دلا تی ہے اور نیکوں کی طرف راہنمائی کرتی ہے ۔
ایمان کیلئے ابتلا ضروری شئے ہیَ
ایک شخص نے اپنی تکالیف اور ابتلاؤں کا ذکر کیا ۔
فرمایا :۔
جب اللہ تعالیٰ کسی آسمانی سلسلہ کو قائم کرتا ہے تو ابتلا اس کی جزو ہو تے ہیں جواس سلسلہ میں داخل ہو تا ہے ضروری ہو تا ہے کہ اس پر کو ئی نہ کو ئی ابتلا آوے تا کہ اللہ تعالیٰ سچے اور مستقل مزاجوں میں امیتاز کر دے اور صبر کر نے والوں کے مدارج میں تر قی ہو ابتلا کا آنا بہت ضروری ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ۔
احسب الناس ان یتر کوان یقولو امنا وھم لا یفتنون(العنکبوت:۳)
کیا لوگ گمان کر بیٹھے ہیں کہ وہ صرف اتنا کہنے پر ہی چھوڑ دئیے جاویں کہ ہم ایمان لا ئے اور ان پر کو ئی ابرتلا نہ آوے ایسا کبھی نہیں ہو تا خدا تعالیٰ کو منظور ہو تا ہے کہ وہ غداروں اور کچوں کو الگ کر دے پس ایمان کے بعد ضروری ہے کہ انسان دکھ اٹھا وے بغیر اس کے ایمان کا کچھ مزا ہی نہیں ملتا آنحضرتﷺ کے صحابہؓ کو کیا کیا مشکلات پیش آئیں اور انہوں نے کیا کیا دکھ اٹھا ئے آخر ان کے صبر پر اللہ تعالیٰ نے ان کو بڑے بڑے مدارج اور مراتب عالیہ عطا کئے انسان جلد بازی کرتا ہے اور ابتلاآتاہے تواس کو دیکھ کر گھبرا جاتا ہے جس کا نتیجہ یہ ہو تا ہے کہ نہ دنیا ہی رہتی ہے ۱؎ اور نہ دین ہی رہتا ہے مگر جو صبر کرتے ہیں اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ ہو تا ہے اور ان پر انعام واکرام کرتا ہے اس لیے کسی ابتلا پر گھبرا نا نہیں چا ہیئے ابتلا مومن کو اللہ تعالیٰ کے اور بھی قریب کر دیتا ہے اور اس کی وفاداری کو مستحکم بنا تاہے لیکن کچے اور غدارکو الگ کر دیتا ہے ۔
پہنچیں تو وہ الگ ہو گیا فرمایا:۔
تم شکر کر و کہ اللہ تعالیٰ نے تم کو اس ابتلا سے بچا لیا ایک وہ زمانہ تھا کہ تلواروں سے ڈرایا جاتا تھا اور وہ لوگ اس کے مقابلہ پر کیا کرتے تھے خدا ئے تعالیٰ سے دعا ئیں مانگتے اور کہتے
ربنا افرغ علینا صبر اوثبت